براڈ کاسٹر ڈیوڈ فراسٹ انتقال کر گئے

برطانیہ کے مشہور براڈ کاسٹر ڈیوڈ فراسٹ چوہتر برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ہیں۔

ڈیوڈ فراسٹ کے خاندان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ انتقال سے پہلے انہوں نے کوئین الزبتھ بحری جہاز پر اپنی آخری تقریر کی تھی۔

سر ڈیوڈ فراسٹ نے اپنے کیریئر میں بطور صحافی، کامیڈی رائٹر، ٹیلی ویژن میزبان کے طور پر خدمات انجام دیں۔

انہوں نے کیریئر میں دنیا کے بڑے بڑے رہنماؤں کے انٹرویو کیے۔ ان کے مشہور انٹرویووں میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کا انٹرویو بھی شامل تھا۔

ڈیوڈ فراسٹ کےخاندان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈیوڈ فراسٹ کا انتقال ہوگیا اور ان کو دفنانے سے متعلق معلومات کو بعد میں جاری کیا جائےگا۔

بی بی سی کے صحافی بارنی جونز کا، جنہوں نے ڈیوڈ فراسٹ کے پروگرام ’بریکفاسٹ ود فراسٹ‘ میں دس برس تک کام کیا ہے، کہنا ہے کہ ڈیوڈ براڈکاسٹنگ سے محبت کرتے تھے اور پچاس برس تک انہوں نے براڈکاسٹنگ کی اور اب بھی اسی کام میں مصروف تھے۔ وہ اگلے ہفتے برطانوی وزیر اعظم کا انٹرویو کرنے والے تھے۔‘

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن نے ڈیوڈ فراسٹ کی موت پر اپنے پیغام میں کہا:’وہ میرے اچھے دوست اور ایک خوفناک انٹرویو کرنے والے تھے۔‘

ڈیوڈ فراسٹ کینٹ میں پیدا ہوئے اور کیمرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ کیمرج یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ان کی ملاقات عظیم مزاح کاروں پیٹر کک، گراہم چیپمین اور جان برڈ سے ہوئی۔

یونیورسٹی سے فراغت کے بعد ڈیوڈ فراسٹ نے آئی ٹی وی جوائن کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بی بی سی جوائن کیا۔ اپنے کیریئر کے آخری حصے میں انہوں نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو جوائن کر لیا تھا۔

اسی بارے میں