صدر مرسی پر مقدمہ چلایا جائے گا

Image caption مرسی پر دسمبر 2012 میں ’قتل اور تشدد پر اکسانے‘ کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا: سرکاری وکیل

مصر کے سرکاری وکیل نے کہا ہے کہ سابق صدر محمد مرسی پر قتل پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

اس الزام کا تعلق اس واقعے سے ہے جس میں گذشتہ دسمبر میں قاہرہ کے صدارتی محل کے باہر تشدد میں سات افراد مارے گئے تھے۔

اخوان المسلمین کے 14 دوسرے ارکان پر بھی اسی الزام کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

مرسی کو جولائی میں معزولی کے بعد سے کسی خفیہ مقام پر رکھا گیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وکیلِ استغاثہ نے اتوار کو رات گئے سابق صدر کو مقدمہ چلانے کے لیے پیش کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ مرسی پر دسمبر 2012 میں ’قتل اور تشدد پر اکسانے‘ کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

چار دسمبر کی رات ہزاروں لوگوں نے محمد مرسی کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

اتوار کو سرکاری میڈیا نے کہا کہ تفتیش سے معلوم ہوا کہ مرسی نے رپبلکن گارڈز اور پولیس سے کہا کہ وہ مظاہرین کا دھرنا ختم کریں، لیکن انھوں نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر مرسی نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے اپنے حامیوں کو بلا لیا۔

اس واقعے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب محل پر مخالفین نے حملہ کیا تو وہ اس کا دفاع کر رہے تھے۔

مقدمے کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔

معزول صدر پر اس سے قبل ’کچھ قیدیوں، افسروں اور جوانوں کے قتلِ عمد‘ کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب جنوری 2011 میں قاہرہ کی ایک جیل سے اخوان المسلمین کے کئی رہنماؤں کو چھڑا لیا گیا تھا۔

ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک کے دوران جیلوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس کے علاوہ ان پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں