کانگریس سے رائے کے اعلان پر حیرانی

Image caption اوباما کا بھی خیال ہے کہ انھیں کانگریس میں کامیابی مل جائے گی

امریکی صدر براک اوباما نے شام کے خلاف کارروائی پر کانگریس سے رائے لینے کے اعلان پر واشنگٹن کو حیران کر دیا ہے۔

بہت سے لوگ توقع کرتے تھے کہ اب تک شام پر حملے کے لیے میزائل ہوا میں ہوں گے لیکن اس کی بجائے اسے کم از کم دس دن کے لیے روک لیا گیا ہے۔

براک اوباما کا یہ فیصلہ شاید ان لوگوں کو متاثر نہ کر سکے جو ان پر عملی اقدام اٹھانے میں تذبذب کا شکار ہونے کا الزام لگاتے ہیں لیکن کم از کم شاید اس دفعہ کانگریس کے اراکین شکایت نہیں کریں گے۔

گذشتہ چند دنوں میں کانگریس کے اراکین کی طرف سے سامنے آنے والی آراء سے امکان پیدا ہوا ہے کہ براک اوباما کے فیصلے کو کانگریس سے منظوری مل جائے گی۔

’شام پر حملہ کرنا چاہیے‘، کانگریس سے باضابطہ منظوری طلب

اوباما کا بھی خیال ہے کہ انھیں کانگریس میں کامیابی مل جائےگی لیکن اس طرح تو ان کے ساتھی ڈیوڈ کیمرن بھی سوچ رہے تھے۔

برطانوی وزیرِاعظم کو ہونے والی شرمندگی نے صدر براک اوباما کے فیصلے پر براہ راست اثر کیا۔ برطانوی پارلمیان نے ملک کی حکومت کی مرضی کے برعکس شام پر حملے کے خلاف ووٹ دیا تھا جس کی وجہ سے براک اوباما کے مشیر شام کے معاملے پر کانگریس کی رائے لینے کے فیصلے کے مزید مخالف ہوگئے۔

ماضی میں برطانیہ پر امریکہ کا پٹھو ہونے کا الزام لگتا رہا ہے۔ اس دفعہ برطانیہ کے دارالعوام کے اراکین نے براک اوباما کو دانت دکھاتے ہوئے ان کا شام پر حملے کے جواز کو رد کر دیا۔

عراق پر امریکہ حملے کے بعد امریکی عوام نے امریکہ کی جنگیں ختم کرنے کے لیے براک اوباما کو منتخب کیا۔

بہت سے ان کے اپنے حمایتی چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے اندر ’قوم کی تعمیر‘ پر توجہ مرکوز کریں۔

لیکن براک اوباما خود اپنی دی ہوئی سرخ لائن میں پھنس گئے ہیں اور شاید وہ ایران اور شمالی کوریا کو بھی پیغام دینا چاہتے ہیں۔

امریکہ میں کیے گئے ایک حالیہ عوامی جائزے کے مطابق 80 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کا فیصلہ آنا چاہیے۔

ایک ایسی کارروائی جو غیر مقبول ہو اور اتحادی بھی غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہوں، مقامی سطح پر بھی کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ ہو تو یہ اوباما انتظامیہ کے لیے ایک مضبوط پوزیشن نہیں۔

لیکن یہ ایک دانشمندانہ اقدام ہے کہ ایک غیر مقبول کارروائی کی ذمہ داری میں دوسرے سیاستدانوں کو بھی شریک کیا جائے جس طرح کہ جولیس سیازر کے قاتل جانتے تھے۔

براک اوباما کا یہ عقلمندانہ اقدام مقامی سطح پر کانگریس کو خوش کرنے کے حوالے سے بھی اچھا ہے۔

بعض لوگ شاید یہ جواز بھی پیش کریں کہ جمہوریت میں یہ ایک صحیح قدم ہے۔

اسی بارے میں