عراق: ایرانی باغیوں کے کیمپ میں تشدد

Image caption ایرانی پناہ گزینوں کا کیمپ اشرف عراق میں 80 کی دہائی سے قائم ہے

عراق میں ایرانی حکومت کے مخالفین اور باغیوں کے لیے ایک کیمپ میں پرتشدد واقعات ہوئے ہیں جن میں پناہ گزینوں کے مطابق درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مجاہدین خلق گروپ نے عراقی فورسز پر شمال مشرقی عراق میں واقع ایرانی کیمپ اشرف پر حملے کا الزام لگایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس میں ایرانی گروپ کے کم از کم 52 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، ان میں سے بعض کے سر میں قریب سے گولی ماری گئی ہے۔

تاہم عراقی حکام نے کسی بھی عراقی فوجی کے کیمپ میں داخل ہونے کی تردید کی ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندوں نے اس تشدد کی مذمت کی ہے اور عراق پر زور دیا ہے کہ وہ حقیقت کو جلد از جلد سامنے لائیں۔

عراق میں اقوام متحدہ کے مشن نے اپنے ایک بیان میں عراقی حکام سے کہا کہ کیمپ میں پناہ گزین افراد کی سلامتی کی یقین دہانی چاہی ہے اور تشدد کے خاتمے کی اپیل کی ہے تاکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جاسکے۔

عراقی مشن میں اقوام متحدہ کی ایک ترجمان ایلینا نباء نے کہا ہے کہ ’ہم صرف اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ وہاں بہت سے لوگ مارے گئے ہیں۔‘

ایک زمانے میں کیمپ اشرف میں مجاہدین خلق کے تین ہزار اراکین ہوا کرتے تھے لیکن کہا جاتا ہے کہ اب ان کی تعداد کم ہوکر صرف 100 رہ گئی ہے۔

حالیہ دنوں میں عراقی حکام اس کیمپ کو ختم کر کے گروپ کو وہاں سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کیمپ عراق میں 80 کی دہائی سے قائم ہے۔

ہلاکتوں کی جو تعداد مجاہدین خلق پیش کر رہے ہیں اور جو تعداد مقامی حکام بتا رہے ہیں ان میں کافی فرق ہے۔

مجاہدین خلق کا کہنا ہے کہ عراقی فورسز نے کیمپ اشرف پر اتوار کی صبح مورٹر سے فائرنگ کی۔

بعض عراقی رپورٹوں میں مورٹر گولے داغے جانے کی بات کہی گئی ہے لیکن وہ کہاں سے داغے گئے اس بابت کچھ نہیں بتایا گيا۔ البتہ اس کے نتیجے میں ہونے والے تصادم میں ہلاکتوں کی بات کہی گئي ہے۔ بعض دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمپ سے دھماکے کی آواز آئی تھی جو کہ تیل اور گیس کے کنٹینرز کے پھٹنے سے رونما ہوئے تھے۔

دوسرے ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رات میں وہاں حملہ ہوا تھا اور یہ کہ اس میں 19 افراد مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے دیگر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عراقی سیکوریٹی فورسز نے کیمپ کے دروازے پر ایک بھیڑ کے ذریعے حملے کے بعد گولیاں چلائیں جس میں قریب 50 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق مقامی ہسپتالوں نے تین عراقی فوجیوں کی ہلاکت اور چار دیگر کے زخمی ہونے کی بات کہی ہے۔

مجاہدین خلق کے حکام نے ان لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں جن کے سروں میں تصادم کے دوران گولی لگی ہے لیکن آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عراقی وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے کیمپ کے مکینوں کی ہلاک کی بات کی تصدیق کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتاش سے پتہ چلا ہے کہ یہ آپسی جھگڑے کا نتیجہ تھیں۔

رائٹرز کے مطابق وزیر اعظم نوری مالکی نے اس واقعے میں تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔

کیمپ اشرف 80 کی دہائی میں قائم ہوا تھا اور اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین نے ان کا استقبال کیا تھا کیونکہ وہ ایران کے خلاف برسرپیکار تھے۔

مجاہدین خلق کو ایران ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ کہ امریکہ کی وزارت داخلہ نے گزشتہ سال اسے دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹا دیا تھا۔

اسی بارے میں