’شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی جارحیت ہو گی‘

روسی صدر کی تنبیہ

Image caption روسی کے صدر کا شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف سخت موقف ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے منظوری کے بغیر شام کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی ’جارحیت‘ ہو گی۔

صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت سے انکار نہیں کیا بشرطیکہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے ایسے ٹھوس ثبوت مل جائیں جس کی تردید نہ کی جا سکے۔

اس سے پہلے امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ممبران نے شام میں محددو اور نپی تلی امریکی فوجی کارروائی کرنے کی ایک مجوزہ قرارداد پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد اس مجوزہ قرارداد کو جاری کیا گيا۔

اس مجوزہ قرارداد پر آئندہ ہفتے ووٹنگ ہو گی اور اس میں شام کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ ساٹھ دنوں میں مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے جس میں کانگریس کی اجازت سے مزید تیس دنوں کی توسیع بھی ممکن ہو گی۔

مجوزہ قرارداد میں شام کے خلاف زمینی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ’ اس بات کی اجازت نہیں کہ امریکہ کی مسلح افواج کو شام میں زمینی کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے۔‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ بشارالاسد حکومت کی جانب سے کیمیائي ہتھیار کے استعمال کے نتیجے میں امریکہ کو حرکت میں آنا پڑا۔

دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے اہم رہنماؤں جان بوہنر اور ایرک کینٹور نے بھی شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو حاصل قرارداد کے مسودے کےمطابق ’سینیٹرز کی یہ خواہش ہے کہ یہ آپریشن محدود ہو اور شام کے خلاف امریکی فضائیہ کا ضروری استعمال ہو۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر بشار الاسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار تیار کیے اور دمشق کے نزدیک 21 اگست کو ان کا استعمال بھی کیا۔

جان کیری نے کہا کہ صدر اوباما نے امریکی جنگ کی اجازت نہیں مانگی ہے ’انہوں نے صرف اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ وہ یہ واضح کر دیں اور اس بات کی یقین دہانی کرا دیں کہ امریکہ وہی ہے جسے ہم امریکہ کہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم اس سے علیحدہ رہے تو دوسرے ممالک کو بھی عام تباہی کے ہتھیار بنانے کی اجازت مل جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ وقت نہیں کہ آرام سے کرسی پر علیحدہ ہو کر بیٹھا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت نہیں کہ قتل عام کا خاموش تماشائی بنا جائے۔‘

Image caption بہرحال ابھی بھی واشنگٹن میں کافی ہچکچاہٹ ہے

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر مارک مارڈیل کے مطابق امریکی سینیٹ کے خارجہ امور کی کمیٹی بظاہر شام پر کانگریس کو پیش کردہ پہلے قرارداد کی منظوری حاصل کر لے گی کیونکہ اس کے دو بڑے ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن اراکین نے اس کے متن پر اپنی رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

اس میں فوجی کارروائی کو 60 دنوں تک محدود کیا گیا ہے اور کسی زمینی جنگ کو خارج کر دیا گيا۔ صدر براک اوباما شاید اس مسودے سے زیادہ مطمئن نہیں ہوں گے کیونکہ اس میں نپی تلی اور محدود جیسے الفاظ کا استعمال کیا گيا ہے۔

میں نے جس سے بھی بات کی ان کے خیال میں یہ کارروائی دو ماہ تک جاری نہیں رہے گی اور یہ کہ صدر اوباما اور ان کے جنرل اپنے فوجیوں کو زمین پر اتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن مسودے میں اس طرح کی زبان کے استعمال ضرورت کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بتایا کہ اگر شام پھٹ پڑتا ہے تو سپیشل فورسز کو وہاں جا کر کیمیائی ہتھیار کو حاصل کرنا ہوگا۔

مسودے کی زبان اس سے منع نہیں کرتی اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محتاط مشن ممکن ہے۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کیمیائی ہتھیارکا حصول امریکہ کی اہم ترجیحات میں شامل کیوں نہیں ہے۔بہرحال ابھی بھی واشنگٹن میں کافی ہچکچاہٹ ہے۔ امریکہ میں رائے عامہ کو دیکھتے ہوئے بہت سے شکوک شبہات ہیں۔ ایک تازہ رائے شماری سے ظاہر ہے کہ اکثریت اس کارروائی کے خلاف ہے۔

اوباما کو حمایت حاصل

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما کو شام کے خلاف فوجی کارروائی کے معاملے میں اہم امریکی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردعمل میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ صدر بشار الاسد کی کیمیائی حملوں کے استعمال کی صلاحیت کم کرنے کے لیے ’محدود‘ کارروائی کی ضرورت ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے اہم رہنماؤں جان بوہنر اور ایرک کینٹور نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی تھی کہ شام میں جاری لڑائی کی وجہ سے بیس لاکھ سے زائد افراد پناہ گزین بننے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

صدر اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن نے منگل کو سپیکر جان بوہنر، ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر نینسی پلوسی، چیئرمین اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے ممبران سے ملاقات کی۔

جان بوہنر نے صدر اوباما کے شام کے خلاف کارروائی کے منصوبے کی حمایت کا اشارہ دیتے ہوا کہا کہ صدر بشار الاسد کو روکنے کی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں کانگریس سے بھی حمایت کی اپیل کی۔

ایوان نمائندگان میں قائد ایوان ایرک کینٹور کا کہنا تھا کہ وہ بھی صدر اوباما کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’اسد کی حکومت دہشت گردی کی حمایت کرتی ہے اور ایک لمبے عرصے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔‘

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ کانگریس طاقت کے استعمال سے متعلق قرارداد کو مسترد کرے گی۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں کے لیے بشار الاسد کا احتساب ہونا چاہیے اور ان کو یقین ہے کہ انہیں کانگریس کی حمایت حاصل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسی فوجی کارروائی چاہتے ہیں جس سے حال اور مستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے میں بشار الاسد کی صلاحیت میں کمی آئے گی۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک محدود اور خطرے سے مطابقت رکھنے والی کارروائی ہوگی‘۔

صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کے ناقد ریپبلکن کے سینیٹر جان مکین اور لنڈسی گراہم پہلے ہی ان کے موقف کی حمایت کر چکے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ میزائل تجربہ

شام میں کیمیکل ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے امریکی کانگریس میں بحث ہونے والی ہے۔

اسرائیل کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل کے میزائل شکن نظام کو ٹیسٹ کرنے کے لیے منگل کو میزائل تجربہ کیاگیا۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ایرو میزائل دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ میزائل کا پتہ لگا لیا تھا۔

سپیرو میڈیم رینج میزائل کی نئی شکل کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ منصوبے کے تحت بحیرہ روم میں یہ میزائل چھوڑا گیا۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گالپن کا کہنا ہے کہ حالانکہ اس طرح کے تجربے بہت پہلے سے طے کیے جاتے ہیں تاہم ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج ایسے امکانات کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے کہ اگر امریکہ شام پر فضائی حملے کرتا ہے تو جواب میں شام یا اس کے اتحادی اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

شامی مہاجرین کی تعداد بیس لاکھ

Image caption اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں ایک پوری نسل تباہ ہوجانے کا خطرہ ہے

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام سے بیس لاکھ افراد ہجرت کرکے ہمسایہ ملکوں میں پناہ لے چکے ہیں اور ان میں سے دس لاکھ نے گزشتہ چھ ماہ میں ملک چھوڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے مزید کہا ہے کہ سات لاکھ افراد نے لبنان میں پناہ لی ہے اور اس وقت شامی مہاجرین کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

دریں اثناء امریکہ اور فرانس شامی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر براک اوباما محدود فضائی حملے کے بجائے شام کے خلاف وسیع کارروائی کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور امریکی وزیر دفاع چک ہیگل امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر شام کی صورت حال پر روشنی ڈالیں گے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق شام سے ہجرت کرنے والے خواتین، بچے اور مرد انتہائی بدحالی میں دوسرے ملکوں میں داخل ہو رہے ہیں اور انھیں چند کپڑوں کے علاوہ کچھ ساتھ لانے نہیں دیا جا رہا۔

شام چھوڑنے والوں میں آدھے سے زیادہ بچے ہیں اور ان میں تین چوتھائی کی عمر گیارہ سال سے کم ہے۔

ہجرت کرنے والوں میں صرف ایک لاکھ اٹھارہ ہزار بچے ہیں جنہیں کسی قسم کی تعلیم مہیا کی جا سکی ہے اور صرف بیس فیصد ایسے ہیں جنھیں نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبراد کیا ہے کہ شام کی ایک پوری نسل تباہ ہونے کا خطرہ ہے جو مستقبل میں شام کی تعمیر نو کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوں گے۔

لبنان شام کے ہسمایہ ملکوں میں سب سے چھوٹا ملک ہے اور معاشی لحاظ سے اس مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی سب سے کم صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں سب سے زیادہ تعداد شامی مہاجرین نے پناہ لی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر چھ لبنانی شہریوں کے مقابلے میں ایک شامی مہاجر لبنان میں موجود ہے۔ شامی مہاجرین کی تعداد کے لحاظ سے اردن اور ترکی بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ دو سال سے جاری تنازع میں اب تک بیالس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ملک کے اندر ہی دوسری جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ دنیا بھر میں اس وقت کسی سب سے زیادہ تعداد میں شام کے لوگ یا تو دوسرے ملکوں میں مہاجر ہیں یا پھر وہ اپنے ہی ملک میں در بدر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شامی مہاجرین کی ہمسایہ ملکوں میں موجودگی ان ملکوں کی معیشت، سماجی ڈھانچے اور معاشروں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے مدد کریں۔

یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ ادارے کو اتنی بڑی تعداد میں مہاجریں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف سینتالیس فیصد وسائل مہیا ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے سربراہ انتونیو گوتریش نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کے بحران کے پہلے دو برس میں بیس لاکھ افراد نے ہجرت کی جبکہ اس تعداد کو دس لاکھ سے بیس لاکھ پہنچنے میں صرف چھ ماہ لگے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں اس سے پہلے کبھی لوگوں گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوئے ہیں۔

ان کے خیال میں سنہ دو ہزار تیرہ کے اختتام تک یہ تعداد تیس لاکھ کے قریب پہنچ جائے گی۔

’ شام میں نسل کشی کا خطرہ‘

شام میں اقوام متحدہ کے سفیر مختار لامانی نے خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری تشدد ملک کو نسل کشی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

مختار لامانی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ شام میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت دہشت انگیز ہے اور وہاں دیہی علاقوں سے لوگ تیزی سے نقل مکانی کر رہے ہیں بھلے ہی وہ سنّی ہوں، علاوی ہوں یا پھر مسیحی۔

ان کے بقول سب سے زیادہ خطرے سے دوچار علاوی فرقے سے تعلق رکھنے والی اقلیتی آبادی ہے جس سے صدر بشار الاسد کا بھی تعلق ہے۔ دوسرے نمبر پر مسیحی برادری ہے۔

مختار لامانی نے کہا کہ ’شام کے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ وہاں نہ صرف انسانی صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے بلکہ تباہی کے قریب ہے بلکہ فرقہ واریت تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہ واقعی دہلا دینے والی ہے۔ وہاں بہت بڑی آبادی صرف اپنی شناخت اور اپنی جائے پیدائش کی بناء پر اپنے گاؤں، دیہات چھوڑنے پر مجبور ہے اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بھی بہت خوفزدہ ہیں‘۔

اقوام متحدہ کے نمائندے مختار لامانی نے مزید کہا کہ شام کے لوگ صدیوں سے پرامن طور پر اکٹھے رہتے آئے ہیں مگر موجودہ بحران انہیں ایک دوسرے سے الگ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ انتخاب کا معاملہ نہیں۔ شامی لوگ فرقہ واریت کا شکار نہیں ہیں بلکہ صورتحال ایسی بن گئی ہے۔ پھر ان عناصر کی مداخلت بھی ہے جو اسلامی ریاست کے قیام یا ایسے ہی کسی ایجنڈے کے ساتھ میدان میں اترے ہوئے ہیں، وہ ان مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں‘۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہا ہے کہ بیس لاکھ سے زیادہ شامی ملک چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں جن میں سے پانچ لاکھ نے گزشتہ تین مہینوں میں شام چھوڑ کر ہجرت کی۔

ان میں سے سات لاکھ فرار ہو کر لبنان پہنچے ہیں اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ شامی قوم ہے جو نقل مکانی پر مجبور ہوئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ’شام بہت ساری خواتین، بچے اور مرد صرف اپنے چند کپڑوں کے ساتھ وطن ترک کرنے پر مجبور ہیں‘۔

ان تارکینِ وطن میں سے نصف بچے ہیں اور تین چوتھائی گیارہ سال سے کم عمر کے ہیں۔

ان میں سے ایک لاکھ اٹھارہ ہزار بچے اپنی تعلیم کو کسی صورت میں جاری رکھنے کے قابل ہوئے ہیں جبکہ پانچ میں سے ایک کو کسی قسم کی کونسلگ یا نفسیاتی مدد ملی ہے۔

امدادی اداروں کا خبردار کرنا ہے کہ شامی بچوں کی ایک پوری گمشدہ نسل تیار ہو رہی ہے۔

سب سے زیادہ شامی تارکینِ وطن لبنان پہنچے ہیں جہاں ہر چھ لبنانی شہری کے مقابلے میں ایک شامی مہاجر ہے۔

فرانس کا کہنا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں گزشتہ ماہ ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کسی اور نے نہیں بلکہ شامی حکومت نے کیے ہیں۔

Image caption فرانسیسی وزیراعظم یاں مارك آئغو نے فرانس کی پارلیمان میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق دستاویزات پیش کیں

فرانس کے وزیر اعظم یاں مارك آئغو کی جانب سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق فرانس کی پارلیمان کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا کہ 21 اگست کو بڑی تعداد میں کیمیائی ایجنٹس استعمال کیے گئے۔

فرانس کی پارلیمان میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق ’اس حملے میں کم سے کم 281 افراد مارے گئے‘۔

خیال رہے کہ امریکہ کے مطابق اس حملے میں چودہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں فرانسیسی دستاویزات کے مطابق شام کے پاس ایک ہزار ٹن کیمیائی ایجنٹوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ شواہد فرانس نے اپنی انٹیلیجنس ذرائع سے حاصل کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان دستاویزات میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ شام نے ایک ہزار ٹن سے زیادہ کیمیائی مواد ذخیرہ کر رکھا ہے جس میں سارین گیس بھی شامل ہے۔

دوسری جانب شام کے صدر بشار الاسد نے ایک بار پھر 21 اگست کو ہونے والے کیمیائی حملے میں شام حکومت کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

فرانسیسی اخبار ’لا فیگارو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بشار الاسد نے متنبہ کیا کہ شام میں غیر ملکی فوجی کارروائی علاقائی تنازع کو مذید پھیلا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا ’شام میں کسی بھی قسم کی کارروائی سے صورتِ حال بے قابو ہو جائے گی اور اس سے شدت پسندی میں اضافہ ہو گا‘۔

دوسری جانب شامی صدر بشار الاسد نے فرانس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جانب میں شام میں کی جانے والی کسی بھی قسم کی مداخلت کا شدید ردِ عمل ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ فرانس کا شام کی حکومت پر کیمیائی حملوں کا الزام غیر منطقی بات ہے۔

خیال رہے کہ شامی حکومت کی جانب سے یہ مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ 21 اگست کو دمشق کے مضافات میں کیا گیا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں چودہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں 426 بچے بھی شامل تھے۔

Image caption نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے ایک مضبوط عالمی ردعمل بہت ضروری ہے

اس سے قبل نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے کہا ہے کہ انہیں ذاتی طور پر یقین ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی ذمہ دار ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے ایک مضبوط عالمی ردعمل بہت ضروری ہے۔

برسلز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’اگر ہم کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال پرخاموش تماشائی بنے رہے اور کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا تو یہ دنیا میں ڈکٹیٹروں کو ایک خطرناک پیغام دے گا‘۔

اس کے علاوہ:

٭اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار شام میں جمع کیے گئے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا یا نہیں۔

٭برطانوی نائب وزیراعظم نِک کلیگ نے کہا ہے شام پر فوجی کارروائی کے حوالے سے دارلعوام میں دوبارہ ووٹ نہیں لیا جائے گا۔

٭روسی وزیر خارجہ سرگئی لاورو نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے متعلق امریلکی شواہد ناقابل یقین ہیں۔

٭عرب لیگ کے وزارئے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کے خلاف ’ضروری اور حوصلہ شکن کارروائی کرے‘ مگر کئی اراکین جن میں عراق اور لبنان شامل ہیں نے اس کی حمایت نہیں کی۔

٭اردن جو خطے میں امریکہ کا بنیادی حلیف ملک ہے نے شام کے خلاف کارروائی میں امریکہ کی قیادت میں اتحادی بننے کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔

سارین کیا ہے؟

Image caption سارِن نظامِ تنفس کو مفلوج کر دیتی ہے

امریکہ نے کہا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت نے گذشتہ ماہ دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں باغیوں کے خلاف کیمیائی مادہ سارین استعمال کیا تھا۔

سارین ان کئی کیمیائی مادوں میں شامل ہے جنھیں نرو ایجنٹ یا اعصابی گیسیں کہا جاتا ہے۔ ان میں وی ایکس، ٹیبون اور سومن شامل ہیں۔

سارین شفاف، بے رنگ اور بے ذائقہ مائع ہے جو فوراً بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

سارین اور دوسرے نرو ایجنٹس انتہائی مہلک مادے ہیں، حتیٰ کہ یہ سائنائیڈ جیسے زہر سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔

ان کی اتنی کم مقدار بھی دو منٹ کے اندر اندر انسان کو ہلاک کر سکتی ہے جو سوئی کی نوک پر سما جائے۔ ان کے بخارات بھی انسان کو پندرہ منٹ کے اندر اندر ہلاک کر سکتے ہیں۔

یہ مادے نظامِ تنفس پر حملہ کر کے اسے مفلوج بنا دیتے ہیں، جس سے انسان سانس نہیں لے پاتا۔

سارین کا تریاق ایٹروپین اور پرالِڈوکسائم جیسی ادویات کی شکل میں موجود ہے، تاہم یہ اسی صورت میں موثر ثابت ہوتے ہیں اگر انھیں فوراً استعمال کیا جائے۔

سارین کو جرمنی نے 1930 کی دہائی میں ایجاد کیا تھا، لیکن اسے دوسری جنگِ عظیم میں استعمال نہیں کیا گیا۔

جنگ کے بعد کئی ترقی یافتہ ممالک نے نرو گیس کی مختلف اقسام بنانا شروع کر دیں۔ اس کی وی ایکس قسم برطانیہ میں ایجاد کی گئی۔

سارین کو عراق کے سابق صدر صدام حسین نے 1988 میں عراقی کردوں کے خلاف استعمال کیا۔ حلبجہ میں ہونے والے اس حملے میں پانچ ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

1995 میں ٹوکیو میں اوم شنریکو نامی تنظیم نے زیرِزمین ریل میں سارِن کے تھیلے رکھے تھے۔ اس حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ 21 اگست کو دمشق میں ہونے والے حملے کے متاثرین کے بالوں اور خون کے تجزیے سے سارِن گیس کی نشان دہی ہوئی ہے۔ امریکہ نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ شامی حکومت نے باغیوں کے ساتھ جنگ میں سارِن استعمال کی ہے۔

شام کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے 1980 کی دہائی میں سارین تیار کرنا شروع کی۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ شام نے 1988 میں کیڑے مار ادویات کی کئی فیکٹریوں کو سارِن بنانے کے کارخانوں میں تبدیل کر دیا تھا۔

شام دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے جنھوں نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ ان میں شام کے علاوہ مصر، شمالی کوریا، انگولا، اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔

تاہم شام 1925 کے جنیوا پروٹوکول میں شامل ہے، جس کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر تو پابندی ہے، تاہم ان کی تیاری، ذخیرہ کرنے یا نقل و حمل کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

اسی بارے میں