افغانستان: طالبان کا امریکی فوجی اڈے پر حملہ

Image caption اطلاعات کے مطابق اس حملے میں نیٹو کا سامان لے جانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

طالبان نے افغانستان میں طورخم کے مقام پر پاکستان کی سرحد کے قریب ایک افغان اور امریکی مشترکہ فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ ننگرہار صوبے میں ہوئے اس حملے میں کسی غیر ملکی شخص کی ہلاکت نہیں ہوئی ہے تاہم طالبان نے ہلاکتوں کے دعوے کیے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا اور نیٹو ہیلی کاپٹر فوجی اڈے کی فضائی نگرانی کرتے رہے۔

طالبان کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں نیٹو کا سامان لے جانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں زیادہ تر فوجی گاڑیاں لدی ہوئی تھیں۔

اس فوجی اڈے پر دیگر غیر ملکی فوجیوں کے علاوہ چھیاسٹھ ہزار امریکی فوج موجود ہوتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ننگرہار صوبے کےگورنر کے ترجمان احمد ضیا عبدالزئی نے بتایا کہ نیٹو کی رسد کا ایک اہم راستہ طورخم جلال آباد روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے سے ملک میں طالبان حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

کابل سے بی بی سی کی کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ تشدد کے ان واقعات میں اضافے کو کچھ لوگ افغان نیشنل آرمی کی صلاحیتوں کی آزمائش کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ افغان طالبان کے رہنما ملا عمر نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ان کے جنگجو اگلے سال غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ عید کے موقع پر جاری ہونے والے اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ وہ افغانستان کے عوام کے ساتھ مل کر اسلامی اصولوں پر مبنی ایک ایسی حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں گے جس میں سب شامل ہوں۔

ہماری نامہ نگار کے مطابق 2001 میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں انتخابات کو افغانستان میں ہونے والی پیش رفت کے امتحان کے طور پر دیکھا گیا۔

طالبان نے افغانستان کے عوام سے گذشتہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا کہا تھا۔ طالبان نے پولنگ سٹیشنز تک جانے والی سڑکیں بلاک کر دی تھیں اور امیدواروں اور کارکنوں پر حملے بھی کیے تھے۔

اسی بارے میں