موسمیاتی تبدیلی، نقل مکانی

Image caption نقل مکانی کے کئی عوامل ہوتے ہیں مگر دنیا بھر میں زیرِ استعمال اعدادوشمار کس حد تک حقیقت پر مبنی ہیں؟

اگر ہم سیاستدانوں پر یقین کریں تو موسمی تغیّرات کی وجہ سے نقل مکانی کے باعث دنیا کے لیے بہت بڑے مسائل پیدا ہوں گے۔

حالیہ دنوں میں ایسی تنبیہ کرنے والوں میں سے برطانیہ کے شیڈو امیگریشن منسٹر کرس برائنٹ ہیں جو پہلے آنے والے سیاستدانوں کی طرح کہہ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دو ارب افراد اپنے ممالک کو چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اعدادوشمار کتنے قابلِ بھروسہ ہیں؟

برطانیہ کے پبلک پالیسی انسٹیٹیوٹ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والی چند دہائیوں میں کروڑوں افراد دنیا بھر میں اپنے گھر بار چھوڑ کر ایسے ممالک میں منتقل ہوں گے جن کے بارے میں کم امکان ہے کہ وہ موسمی تبدیلی سے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا ’اگر ہم موسمی تبدیلی کے حوالے سے کسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں تو ایک بڑا خطرہ ہے کہ ہم اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھیں گے جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہے۔‘

’اقوام متحدہ کا اندازہ ہے سنہ دو ہزار آٹھ میں دو کروڑ افراد موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔‘

برائنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ غلط نہیں ہو گا کہ موسمیاتی تبدیلی سے دو ارب افراد کے نقل مکانی پر مجبور ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم اگر ان عوامل کو نظر انداز کریں گے جن سے موسمیاتی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو یہ دو کروڑ کا تخمینہ درست ثابت ہونے کا خطرہ ہے۔‘

اب دوبارہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ اندازے کیسے لگائے جاتے ہیں اور کیا مستقبل واقعی اتنا ہی تاریک ہے؟

Image caption بہت سارے اعدادوشمار میں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے افراد کو جمع کر دیا گیا ہے

سب سے پہلے تو بات کرتے ہیں دو کروڑ کی تعداد کی۔

ایلکس رینڈل جو بظاہر ایسے شخص لگتے ہیں جو ان اعدادوشمار سے متفق ہوں گے مگر وہ کلائمیٹ آؤٹ ریچ اینڈ انفارمیشن نیٹ ورک کے لیے کام کرتے ہیں جو ایک خیراتی ادارہ ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں نقل مکانی اور اس کے متاثرین کے بارے میں رائے عامہ کو باخبر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

حقیقت میں وہ اس تعداد کے ناقد ہیں اور ان کے مطابق ’یہ دو کروڑ کی تعداد ایسے تمام نقل مکانے کرنے والے افراد کے اعداوشمار کو جمع کر کے تخلیق کیا گیا ہے جو کسی قسم کی قدرتی آفت کے نتیجے میں نقل مکانی پر موجود ہوئے تھے۔‘

ان کے خیال میں یہ ایک مسئلہ ہے۔

یہ یقیناً درست ہے کہ موسمیاتی تبدیلی بعض قسم کی قدرتی آفات کے وقوع پذیر ہونے میں مددگار ضرور ہو سکتی ہے مگر ’یہ یقیناً درست نہیں ہے کہ ہم ہر کسی وجہ سے وقوع پذیر ہونے والی نقل مکانی کو موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیں‘۔

رینڈل کا یہ بھی خیال ہے کہ ’یہ تصور کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثر ہے ہونے والے افراد بالآخر نقل مکانی کریں گے۔‘

رینڈل کے مطابق ایس قدرتی آفات کے نتیجے میں ’لوگ قلیل مدت کے لیے مختصر فاصلے طے کرکے نقل مکانی کرتے ہیں اور پھر واپس انہی جگہوں پر چلے جاتے ہیں‘۔

تو پھر سنہ دو ہزار پچاس تک دو ارب کی تعداد کے تخمینے کا کیا کیا جائے؟

یہ تعداد بہت دور تک گئی ہے جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی کے معاشی پہلوؤں کے ’سٹرن ریویو‘ میں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کی سنہ دو ہزار آٹھ کی تقریر اور کئی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے بھی استعمال کیا گیا ہے۔

یہ عدد آکسفورڈ میں رہائش پذیر ایک سائنسدان پروفیسر نورمن مائرز کی جانب سے ایک تحقیق سے سامنے آیا جن میں سے ایک سنہ انیس سو پچانوے میں شائع ہوئی اور دوسری سنہ دو ہزار پانچ میں شائع ہوئی۔

اسی بارے میں