’برازیل، میکسیکو کے صدور کی جاسوسی‘

Image caption بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حساس انکشاف ایک ایسے وقت ہوا ہے، جبکہ روسیف اکتوبر میں پہلے سرکاری دورے پر امریکہ جانے والی ہیں

برازیل اور میکسیکو نے نیشنل سیکورٹی ایجنسی یعنی این ایس اے کی طرف سے اس کے صدور کی جاسوسی کے دعووں پر امریکہ سے وضاحت طلب کی ہے۔

صحافی گلین گرين والڈ نے براذيلي ٹی وی گلوبو پر کہا، ’براذيل کی صدر جیلما روسیف اور میکسیکو کے اینریک پینا نیتو کے انٹرنیٹ ڈیٹا کو امریکی ایجنسی کی طرف سے درمیان میں روک کر دیکھا جاتا تھا۔‘

گرين والڈ کو اس سے متعلقہ خفیہ فائلوں امریکی خفیہ اطلاعات لیک کرنے کے ملزم ایڈورڈ سنوڈن سے ملی ہیں۔

برازیل کا کہنا ہے کہ ڈیٹا ہیک کرنا اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ میکسیکو نے بھی اس معاملے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

براذيلي سینیٹر اےڈارڈو سپلسي نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں کہا ’اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ امریکی ایجنسی یا امریکی حکومت کی طرف سے کرائے پر لیے گئے لوگ دیکھیں کہ کوئی برازيلي شہری کیا کر رہا ہے۔‘

امریکی سفیر کی طلبی

Image caption اس انکشاف پر برازیل اور میکسیکو کی حکومت نے اپنے اپنے ممالک میں امریکی سفیروں کو طلب کر کے وضاحت مانگی ہے

نیوز ایجنسی ایف پی کے مطابق برازیل اور میکسیکو کی حکومتوں نے اپنے اپنے ممالک میں امریکی سفیروں کو طلب کیا ہے۔ میکسیکو نے امریکی سفیر سے تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ پتہ لگ سکے کہ گزشتہ سال انتخابات سے پہلے صدر پینا نیتو کے ای میل کی مبینہ جاسوسی کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔

جولائی میں براذيلي اخبار ’او گلوبو‘ نے خبر دی تھی کہ امریکہ نے اس علاقے کی فون کالز اور ویب ٹریفک روک دیا تھا۔

برطانوی اخبار گارڈين کے کالم نگار گرين والڈ نے گلوبو ٹی وی کے نیوز پروگرام ’فےٹاسٹكو‘ پر اتوار کو کہا ’سنوڈن طرف سے افشا کی جانے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح امریکی ایجنٹ برازيل کے صدر کے معاونین کے درمیان ہونے والی بات چیت کی جاسوسی کرتے تھے۔‘

برازیل کے وزیر انصاف جوس ایڈارڈو نے کہا ’اگر یہ صحیح ہوا تو نہ صرف ناقابل قبول ہوگا بلکہ اسے ملک کی خود مختاری پر حملہ بھی مانا جائے گا۔‘

ایک رپورٹ کے مطابق برازیل کی صدر روسیف جب بھی انٹرنیٹ پر آن لائن ہوتی تھیں، تب این ایس اے ایک پروگرام کے ذریعے ان پر نظر رکھتا تھا۔

برازيل کے صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بحث کے لئے سب سے پہلے وزراء کی میٹنگ بلائی جا رہی ہے۔

ساؤ پالو میں بی بی سی کے نامہ نگار جولیا كارنے ريو ڈی جنیئرو سے کہا کہ برازیل میں شک کیا جا رہا ہے کہ امریکی کاروباری مفادات کے سبب امریکہ کی جاسوسی کر رہا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حساس انکشاف ایک ایسے وقت ہوا ہے، جبکہ روسیف اکتوبر میں پہلے سرکاری دورے پر امریکہ جانے والی ہیں۔

ویسے برازيلي حکام نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کیا ان الزامات کے بعد روسیف واشنگٹن کا دورہ بھی منسوخ یا ملتوی کر سکتی ہیں۔

میکسیکن صدر کی جاسوسی

Image caption امریکی حکومت کے ساتھ برازیل اور میکسیکو کے تعلقات ان انکشافات کے نتیجے میں تناؤ کا شکار ہو سکتے ہیں

رپورٹ میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیتو کے گزشتہ سال جولائی میں منتخب ہونے سے پہلے این ایس اے ان کی مواصلات پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

صحافی گرين والڈ کا کہنا ہے کہ جون 2012 کی دستاویزات بتاتی ہیں کہ پینا نیتو کے ای میل پڑھے جاتے تھے۔ گرين والڈ کو یہ دستاویز سابق امریکی خفیہ تجزیہ کار ایڈورڈ سنوڈن نے فراہم کی، جسے برطانوی اور امریکی میڈیا میں امریکی خفیہ معلومات افشا کرنے کے بعد روس نے عارضی طور پر پناہ دے رکھی ہے۔

گرين والڈ پہلے ایسے صحافی تھے جنہوں نے چھ جون کو سنوڈن کی طرف سے افشا کی جانے والی دستاویزات کا انکشاف کیا تھا۔ تب سے وہ امریکہ اور برطانیہ کے حکام کی نگرانی پر خبروں کی سیریز لکھ چکے ہیں۔

اسی بارے میں