روسی شہریوں کو امریکہ سے ہوشیار رہنے کا مشورہ

Image caption روس کی طرف سے خفیہ معلومات افشاں کرنے والے امریکی شہری ایڈورڈ سنوڈن کو عارضی طور پر پناہ دینے کی وجہ سے واشنگٹن غصے میں ہے

روس کے دفترِ خارجہ نے ملک کے شہریوں کو ایسے ممالک کا سفر کرنے کے بارے میں خبردار کیا ہے جن کا امریکہ کے ساتھ ملزموں کی تحویل کے معاہدے ہوں۔

اس معاملے میں دفترِخارجہ نے خصوصاً ایسے شہریوں کو خبردار کیا ہے جنھیں خدشہ ہو کہ انھیں گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

روسی دفترِخارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ’روسی دفترِ خارجہ روسی شہریوں کو یہ مشورہ دیتی ہے کہ بیرون ممالک سفر کرنے سے گریز کریں اور خاص کر ان ممالک کا جن کا امریکہ کے ساتھ ملزموں کی تحویل کے معاہدے ہیں۔اور اگر انھیں یقین ہو کہ قانون نافذ کرنے والے امریکی اداروں کے پاس ان کے خلاف کوئی کیس ہے۔‘

دفترِخارجہ کی ویب سائٹ پر دیےگئے پیغام میں یہ الزام عائد کیاگیا تھا کہ ماضی میں’ کئی روسی شہریوں کو اغوا کرکے ان پر امریکہ میں تعصب پر مبنی مقدمات چلائے گئے۔‘

روسی دفترِ خارجہ نے کہا کہ ’ امریکہ کی درخواست پر مختلف ممالک میں روسی شہریوں کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ان گرفتاریوں کا مقصد روسی شہریوں کو امریکہ منتقل کرکے انھیں سزائیں دینا ہے۔ حالیہ مثالوں میں لیتھونیا سے دمتری اسٹینوف، سپین سے دمتری بلرسوف، کوسٹا ریکا سے میکسم چیکروف اور ڈومینیکن ریپبلک سے الیکزینڈر پنین کی گرفتاریاں شامل ہیں۔‘

دمتری بلرسوف کو فراڈ کے شہبے میں بارسلونہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے گرفتار کیاگیا تھا۔

اسی طرح الیگزینڈر پنین کو جو ایک کمپیورٹر پروگرامر ہے جون میں حراست میں لے کر انٹرنیٹ بینکنگ میں فراڈ کے الزام میں امریکہ منتقل کیاگیا۔

روس کی طرف سے خفیہ معلومات افشا کرنے والے امریکی شہری ایڈورڈ سنوڈن کو عارضی طور پر پناہ دینے کی وجہ سے واشنگٹن غصے میں ہے۔

لیکن دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری واننگ میں ان کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں’وکٹر باؤٹ اور کونسٹنٹین یاروشینکو پر چلائے جانے والے غیر منصفانہ مقدمات‘ کا ذکر ہے۔ان دونوں افراد کو جیل ہوئی تھی۔

وکٹر باؤٹ کو اپریل 2012 میں امریکیوں اور امریکی سرکاری اہلکاروں کو قتل کرنے کی سازش کرنے اور ایک دہشت گرد تنظیم کو طیارہ شکن میزائل فراہم کرنے اور اس کی مدد کرنے جیسے جرائم کا مرتکب پا کر 25 سال جیل کی سزا دی گئی تھی۔

وکٹر باؤٹ کو تھائی لینڈ سے ملک بدر کیا گیا تھا اور ان پر عرصے سے اسلحے کی سمگلنگ کرنے کا الزامات تھے۔

کونسٹنٹین یاروشینکو ایک کارگو پائلٹ ہیں۔ انھیں منشیات کے بین الاقوامی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کے دوران لائبیریا میں گرفتار کرکے امریکہ منتقل کیا گیا تھا۔ انھیں 2011 میں بیس سال سزا ہوئی تھی۔

روسی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ’ روس کے سفارت خانے اور قونصلیٹ مشکلات میں پھنسے ہوئے روسی شہریوں کو قانونی امداد دیتے ہیں لیکن اس قسم کے معمالات میں کامیابی کی امید کم ہی کی جا سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں