بے چین دمشق

دمشق میں چاروں جانب یہی باتیں ہو رہی ہیں کہ نہ جانے امریکہ کب بمباری کر دے۔ البتہ یہ بات امریکی کانگریس کے فیصلے پر منحصر ہے کہ آیا بمباری ہوگی یا نہیں اور اگر ہوگي تو کب۔

شام کے بعض باشندے اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سربراہ آخر ٹھٹھک کیوں گئے۔ وہ اس امید کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں کہ صدر براک اوباما شام پر حملے میں شامل خطرات سے ڈر گئے اور یہ کہ وہ کانگریس میں حملے کی حمایت میں ووٹ حاصل نہیں کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ اس ہفتے تناؤ میں کمی آئی ہے لیکن ہر کسی کو یہ معلوم ہے کہ جب ووٹنگ کا وقت قریب آئےگا تو پھر اس میں اضافہ ہو جائے گا۔

میں شامی عرب حلال احمر کے عملے پر مبنی ایک گروپ کو دیکھ رہا تھا جنہیں یہ سمجھایا جا رہا تھا کہ اگر انہیں کارخانے اور دفاتر خالی کرنے پڑے تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔

ان کے مینیجر نے انہیں سختی کے ساتھ کہا کہ اب جب بھی وہ سائرن کی آواز سنیں گے تو وہ اصلی ہوگی اور انہیں اپنی جگہ چھوڑنے کے لیے صرف دو منٹ کا وقت ہوگا اور پانچ منٹ کا مزید وقفہ انہیں اپنے چھپنے کی جگہ تک پہنچنے کے لیے حاصل ہوگا۔

Image caption زیادہ تر شامی باشندے صدر بشار الاسد کے موقف سے اتفاق رکھتے ہیں کہ امریکہ ضرور حملہ کریگا

حلال احمر کے عملے جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں وہ آپس میں مذاق کرتے ہیں کہ کیا ہوگا جب وہ سائرن کے وقت باتھ روم میں ہونگے۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے کے اگلے ہفتے کیا ہونے والا ہے۔

’ہم لوگ جواب دیں گے۔ یہ اہم بات ہے۔‘

بظاہر دمشق پرسکون اور معمول پر نظر آتا ہے لیکن اگر پہلے سے موازنہ کیا جائے تو یہ بالکل پرسکون نہیں ہے۔ شہر کے لوگ دوسال سے جاری جنگ سے گزر رہے ہیں اور ان کی چمڑی پہلے کے مقابلے موٹی ہو چکی ہے یعنی احساس کی نزاکت میں کمی آئی ہے۔

زیادہ تر شامی باشندے صدر بشار الاسد کے موقف سے اتفاق رکھتے ہیں کہ امریکہ ضرور حملہ کریگا اور وہ اس بارے میں باتیں کیے چلے جاتے ہیں کہ پھر کیا ہوگا۔

ایک صورت تو یہ ہے کہ امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کے زخیروں پر حملے کرے گا اور لوگ کو ڈر ہے کہ کہیں اس سے زہریلی گیس کا بادل اٹھ کر ان کی جانب نہ آئے۔

بات چیت کا دوسرا موضوع ہے کہ کیا امریکی حملے کے نتیجے میں چھوٹے شہروں اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں مسلح مخالفین کہیں شہر کے مرکز میں تو داخل ہونے کی کوشش نہیں کریں گے۔

اور یہ خدشہ وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے کہ مغربی دنیا سے ایک اور عرب ملک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں خطے میں بڑی جنگ چھڑ جائے گی۔

شام کے میرے ایک شناسا اور صدر اسد کے حامی نے مجھ سے کہا: ’اگر وہ حملہ کریں گے تو ہم چپ چاپ بیٹھے نہیں رہیں گے۔ ہم لوگ بھی جوابی کارروائی کریں اور یہ اسرائیل اور ترکی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور وہ دونوں بھی خاموش نہیں رہیں گے۔‘

یہ واضح نہیں کہ اس طرح کا کچھ ہوگا کیونکہ اس سال کے شروع میں جب اسرائیل نے شام کے اہم سٹریٹیجک علاقوں پر حملہ کیا تھا تو بشار الاسد حکومت نے اس پر رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ان میں سے ایک حملہ اس قدر شدید تھا کہ اس نے دارلحکومت دمشق کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

لیکن اسرائیلی حملہ اچانک ہوا تھا اور اگر امریکی حملہ ہوتا ہے تو یہ جنگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ اطلاع کے بعد کیا جانے والا حملہ ہوگا۔

Image caption اور یہ خدشہ وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے کہ مغربی دنیا سے ایک اور عرب ملک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں خطے میں بڑی جنگ چھڑ جائے گی

شام کے سرکاری ٹی وی پر دن رات فوج کی قصیدہ خوانی جاری ہے، بہادر فوجیوں کو ٹینکوں کو تباہ کرتے اور راکٹ لانچر چلاتے دکھایا جا رہا ہے۔

شام کے باشندوں کے لیے ہدایات جاری کی جارہی ہیں کہ باغیوں کی کامیابی یا ملک کے حکام کے ملک چھوڑنے کی افواہوں پر کان نہ دیں۔ صدر بشار الاسد نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہ ہیں۔

اگر امریکی کانگریس میں حملے کو منظوری مل جاتی ہے تو نتیجے کے علان کے ساتھ ہی دمشق میں ہائی الرٹ ہو جائے۔

جوابی کارروائی کرنے کے اتنے دعووں اور شور کے بعد صدر بشار الاسد اور ان کے مشیروں کے لیے پیچھے ہٹنے کی گنجائش نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں