پارلیمان میں فحش ویب سائٹس دیکھنے کی کوشش

فائل فوٹو

برطانیہ میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق برطانوی پارلیمان میں گزشتہ سال فحش ویب سائٹوں پر جانے کی تین لاکھ کوششیں کی گئیں۔

پارلیمان کے دارالعوام کے حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کوششیں ارکانِ پارلیمان نے کیں، یا وہاں کے عملے نے۔

برطانوی پارلیمان سٹیٹ میں پانچ ہزار افراد کام کرتے ہیں۔

’انٹرنیٹ کمپنیاں فحش مواد کو بلاک کریں‘

حکام کا کہنا ہے کہ فحش ویب سائٹ پر جانے کی تمام کوششیں’ جان بوجھ کر‘ نہیں کی گئی تھیں، اس کے علاوہ ان میں تیسرے فریق کے سافٹ وئیر کی جانب سے کی جانے والی مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے یا وہ ویب سائٹیں جو خود بخود سامنے آ جاتی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ’ہفنگٹن پوسٹ یو کے‘ کی درخواست پر جاری کیے گئے ہیں۔

اس اخبار نے اس ضمن میں خبر کی شہ سرخی اپنے ہوم پیچ پر لگائی’اوہو یس، منسٹرز!‘

گزشتہ سال نومبر میں ایک لاکھ چودہ ہزار مرتبہ فحش ویب سائٹ دیکھنے کی کوشش کی گئی جبکہ فروری میں پندرہ بار ایسا ہوا۔

دارالعوام کی ایک ترجمان کے مطابق’ ہمارے خیال میں نیٹ ورک استعمال کرنے والوں کی بامقصد درخواستوں کے حوالے سے فراہم کی جانے والی معلومات درست خاکہ پیش کرتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا’یہ اس وجہ سے ہے کہ ویب سائٹ اپنے ڈیزائن کے اعتبار سے کئی طریقوں سے سامنے آ جاتی ہیں، اور تیسری پارٹی کے سرگرم سافٹ وئیر کی وجہ سے ہو سکتا ہے‘۔

برطانوی وزیراعظم نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں گھریلو صارفین تک فحش ویب سائٹ کی رسائی بند کر دیں جب تک وہ خود اس کی درخواست نہیں کرتے۔

اس کے بار برطانیہ میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی نے فحش ویب سائٹس کو فلٹر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اسی بارے میں