آسٹریلیا پہنچنے کے لیے زندگیاں داؤ پر

ہر ماہ ہزاروں افراد بحر ہند کے پانیوں سے گزر کر آسٹریلیا کے ساحل تک پہنچنے کے خطرناک سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔

ان میں سے کئی افراد افغانستان، ایران اور سری لنکا میں حالات سے تنگ آکر اپنا ملک چھوڑنے کا یہ مشکل فیصلہ کرتے ہیں۔

یہ افراد انسانی سمگلنگ کرنے والوں کو بڑی رقم دیتے ہیں جس کے عوض وہ انہیں غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچانے کی یقین دہانیاں کرواتے ہیں۔

آسٹریلیا میں ہونے والے عام انتخابات کی مہم کے دوران پناہ گزینوں کا معاملہ ایک اہم موضوع ہے اور دونوں اہم پارٹیاں اس حوالے سے سخت قوانین متعارف کروانے کے حق میں ہیں۔

بی بی سی نے ایسے ہی تین افراد سے بات کی ہے جو کہ آسٹریلیا میں زندگی شروع کرنے کی خواہش مند ہیں۔

افغانستان چھوڑنے کا انتظار

حبیب اللہ کی عمر 41 سال ہے اور وہ کابل میں رہتے ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں جن کی عمریں نو، آٹھ اور چار برس ہیں۔ وہ اور ان کے خاندان والے پرامید ہیں کہ وہ اب کسی بھی دن افغانستان چھوڑ دیں گے اور آسٹریلیا میں بہتر اور محفوظ زندگی کی خاطر اس لمبے اور خطرناک سفر پر نکل پڑیں گے۔

میں ایک سرگرم سماجی کارکن ہوں اور میں نے تشدد کا شکار ہونے والے افراد کے حقوق کے لیے خاصا کام کیا ہے۔ میں نے ان افراد کے مقدمے لڑے تھے اس لیے مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے تین مرتبہ جیل ہو چکی ہے اور مجھ پر دو مرتہ حملہ ہو چکا ہے۔ دوسری مرتبہ حملہ آوروں نے چاقو سے حملہ کر کے مجھے مارنے کی کوشش کی۔ مجھے احساس ہوا کہ اگر انہوں نے مجھے مار دیا تو میری بیوی اور بچیوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔

اس لیے میں نے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے آسٹریلیا کا انتخاب اس لیے کیا کیوں کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جہاں انسانی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹیاں کسی پرامن جگہ پر سکول جائیں جہاں انہیں ہر لمحہ تشدد، خود کش حملوں اور قتل و غارت کی خبریں نہ سننی پڑیں ۔ میرے کچھ رشتے دار انڈونیشیا میں ہیں۔ انہوں نے کابل میں ایک ٹریول ایجنٹ کے ساتھ میرا رابطہ کروایا تھا۔ اس ایجنٹ کے غیر قانونی طور پر دوسرے ممالک لے جانے والے افراد کے ساتھ تعلقات ہیں۔ میری خود ان افراد سے ملاقات نہیں ہوئی ہے لیکن ایجنٹ کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی یہاں سے نکل جائیں گے۔ یہ بہت بڑا جوا ہے۔

انسانی سمگلنگ کرنے والے افراد اس قابل نہیں ہوتے کہ ان پر بھروسا کیا جائے لیکن اس سے پہلے وہ میرے رشتے داروں کی مدد کر چکے ہیں اور ہمارے پاس ان پر اعتماد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمیں پہلے انڈیا جانا ہوگا جہاں سے وہ ہمیں ملیشیا اور پھر انڈونیشیا پہنچائیں گے۔ ملیشیا میں ہمیں تعلیم اور کام کے ویزوں کے لیے انہیں 21 ہزار امریکی ڈالر دینے ہوں گے۔ میری بیوی اور مجھے چھ چھ ہزار ڈالر جب کہ بچوں کے تین تین ہزار ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ آدھی رقم ہمیں سفر سے پہلے اور آدھی ملیشیا پہنچنے کے بعد ادا کرنی ہو گی۔

Image caption انڈونیشیا کے ساحل پر غیر قانونی طریقے سے کشتی پر پہنچنے والے افراد کی ریسکیو والے مدد کر رہے ہیں

اتنی رقم کا انتظام کرنا بہت مشکل ہے ۔ میں نے کچھ رقم ادھار لی ہے اور باقی کے لیے گھر کا سامان بیچ رہے ہیں۔ ہم نے ٹی وی اور ریڈیو پر سنا ہے کہ انڈونیشیا سے آسٹریلیا کا سفر کتنا خطرناک ہے۔ وہ جن کشتیوں پر لے جاتے ہیں وہ سمندر میں سفر کے قابل نہیں۔ وہ ان میں گنجائش سے زیادہ لوگ بٹھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے کئی کشتیاں ڈوب چکی ہیں۔

لیکن اس کے باوجود ہم دیکتھ ہیں کہ کئی پناہ گزین آسٹریلیا پہنچے اور وہاں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ہم ایک پرامن زندگی کی خاطر اس سفر کی سختیاں برداشت کرنے کو تیار ہیں۔

مجھے اپنی زندگی کے تحفظ اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا ملک چھوڑنا ہوگا۔ میں افسردہ ہوں کیوں کہ میں یہاں پیدا ہوا تھا اور میرے والدین یہاں دفن ہیں۔ لیکن میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔

کرسمس آئی لینڈ میں زیر حراست

سعید کی عمر 25 سال ہے اور ان کا تعلق ایران کے دارالحکومت تہران سے ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے۔ انہوں نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے کے بعد ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ایران میں یہ سنگین جرم ہے۔ سعید نے کشتی کے ذریعے انڈونیشیا سے کرسمس آئی لینڈ کا سفر کیا۔ مگر ان کی آمد سے تین دن پہلے ہی نئے قواعد و ضوابط لاگو ہوئے جن کے مطابق جزیرے پر آنے والوں کو پاپوا نیوگنی بھیجا جائے گا جہاں ان کی جانج پڑتال ہوگی اور اگر انہیں پناہ مل جاتی ہے تو انہیں آسٹریلیا میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے سعید بہت پریشان ہیں۔ انہوں نے بی بی سی فارسی کی فریبہ صحرائی کو اپنی کہانی فون پر سنائی۔

میں نے اپنے دین اور ایمان کی آزادی کے لیے ایران چھوڑا۔ اگر میں ان نئے حالات سے واقف ہوتا تو کبھی بھی آسٹریلیا آنے کا نہ سوچتا۔ کشتی کے ذریعے انڈونیشیا سے کرسمس آئی لینڈ تک تین دن کا سفر بہت خوفناک تھا۔ میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا۔ سب اپنی جانوں پر کھیل کے یہاں تک پہنچے ہیں۔ مگر اب حکام کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پروا نہیں کہ آپ کیسے اور کن حالات میں آئے ہیں۔ آپ کو پاپوا نیوگنی جانا پڑے گا، چاہے آپ کو اچھا لگے یا نہیں۔ ہمیں پاپوا نیوگنی جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو زیادتی ہے۔

میں بہت افسردہ ہوں۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں اور ہمیں ایران میں کسی قسم کے مالی مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ اگر انہوں نے مجھے پاپوا نیو گنی بھیجا تو میں خود کشی کر لوں گا۔ اگر میرے ماں باپ یہ انٹرویو سن رہے ہیں تو وہ میری آواز آخری بار سن رہے ہیں۔ میں ایک مرتبہ پاپوا نیو گنی پہنچ گیا تو وہ پھر مجھے کبھی نہیں دیکھیں گے۔

آسٹریلیا میں فیصلے کے منتظر

معروف مشفی شریف کی عمر 38 سال ہے اور وہ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں۔ وہ بائیں بازو کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت میں شامل ہوگئے تھے اور انتخابات میں حصہ پر انہیں حکمران جماعت کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ اس وجہ سے انھوں نے گذشتہ سال ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

میرا پہلا انتخاب آسٹریلیا نہیں بلکہ اٹلی تھا۔ لیکن اس وقت میں بہت غیر محفوظ محسوس کر رہا تھا اور میرا مقصد جلداز جلد ملک چھوڑنے کا تھا۔ مجھے کاروباری تعلقات سے معلوم ہوا کہ ایک شخص آسٹریلیا کے لیے ایک کشتی انتظام کر رہا ہے تو میں نے بھی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔

جب میں اس شخص سے ملنے گیا تو اس نے مجھے یقین دہانی کروائی۔ مجھے کچھ اندازہ تھا کہ یہ کام خطرناک ہو سکتا ہے، لیکن اس کا کہنا تھا کہ یہ مخصوص سفر اتنا مشکل اور خطرناک نہیں ہوگا جتنے دوسرے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کافی حد تک آرام دہ اور محفوظ ہوگا۔

اس نے ایک لاکھ سری لنکن روپے (تقریباً 7500 امریکی ڈالر) مانگے جس کا انتظام میں نے تین دن میں کر لیا۔ میرے پاس کچھ پیسے جمع تھے لیکن میں نے اس رقم کا ایک بڑا حصہ دوستوں سے ادھار لیا ہے۔ میں اس معاملے میں خوش قسمت تھا کیوں کہ اتنی بڑی رقم اکٹھی کرنے میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔

یہ سفر میرے تصور سے زیادہ خطرناک تھا۔ ہمیں ایک چھوٹی کشتی پر سمندر میں لے جایا گیا جہاں ہمیں ایک بڑی کشتی پر منتقل کیا گیا جس پر دوسرے لوگ پہلے سے موجود تھے۔ میرے خیال سے اس کشتی پر صرف 40 افراد کی گنجائش تھی لیکن اس پر 117 مسافر سوار تھے۔

وہ ہمیں دن میں صرف ایک بار کھانا دیتے تھے اور وہ بھی ناکافی ہوتا تھا۔ آپ کو کھانا ملنا یا نہ ملنا آپ کی قسمت پر منحصر تھا۔ پینے کا پانی دس دن بعد ختم ہوگیا۔ میں نے یہ بات پہلے کبھی نہیں کہی لیکب اب میں کہہ سکتا ہوں کے مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔

چاروں طرف پانی تھا اور ہمیں کچھ خبر نہیں تھی کہ ہم کہاں ہیں۔ سفر کے 17ویں دن ہم نے خشکی کا ایک ٹکڑا دیکھا اور کشتی کے عملے کو بتایا تو وہ کشتی کو اس طرف لے گئے۔ جیسے ہی ہم قریب پہنچے تو آسٹریلوی نیوی کے ایک جہاز نے ہمیں روک لیا۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کوکوس آئی لینڈ ہے جو آسٹریلیا کے زیر انتظام ہے۔

یہ جزیرہ سیاحتی مقام ہے جہاں حراستی مراکز نہیں ہیں اس لیے ہمیں چند دن بعد کرسمس آئی لینڈ بھیج دیا گیا۔ لیکن وہاں میری طبیعت خراب ہوگئی اور میرے سینے میں انفیکشن ہوگیا۔ آسٹریلوی حکام نے علاج کے لیے مجھے پرتھ بھیج دیا۔ عام طور پر تو سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کرسمس آئی لینڈ میں ہی غور کیا جاتا ہے اور آسٹریلیا کے کسی شہر میں اسی وقت بھیجا جاتا ہے جب حکم کو یقین ہو جائے کہ اس میں کوئی دھوکا نہیں ہے۔

اب میں میلبرن میں ہوں اور اپنی پناہ کی درخواست پر فیصلے کا انتظار کر رہا ہوں۔ میرا خاندان اور دوست سری لنکا میں ہیں۔ انہیں چھوڑنا بہت مشکل تھا۔ مجھے یقین ہے کہ میرا کیس خاصا مضبوط ہے اور اگر میری درخواست منظور ہوگئی تو میں اپنے خاندان کو یہاں لا سکتا ہوں۔

سری لنکا میں بھی میری مالی حالت ٹھیک تھی کیوں کہ میں کاروبار کرتا تھا۔ وہاں میری آزادی اور خلوت بھی تھی۔ یہاں میں سری لنکا سے ہی تعلق رکھنے والے تین یا چار افراد کے ساتھ رہ رہا ہوں اور حکومت کی جانب سے ملنے والے وظیفے پر گزار اوقات کر رہا ہوں۔

میں اپنے ہم وطنوں سے کہنا چاہوں گا کہ ’وہ یہ سفر نہ کریں اور انسانی سمگلنگ کرنے والوں کی یقین دہانیوں پر بھروسا نہ کریں۔ وہ صرف ہماری بدقسمتی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘