افغان سکیورٹی فورسز موثر ثابت ہو رہی ہیں

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے دوسرے سینیئر ترین کمانڈر لیفٹینٹ جنرل جون لوریمر نے کہا ہے کہ افغان فوجیوں کی اموات میں اضافے کے باوجود افغان فوج ایک موثر سکیورٹی فورس ثابت ہو رہی ہے۔

لیفٹینٹ جنرل جون لوریمر نے بی بی سی کی کیرن ایلن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کے حملوں کے باوجود افغان سکیورٹی فورسز نے ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔

افغان فوج نے ملک کی سکیورٹی سنبھال لی

لیفٹینٹ جنرل جون لوریمر نے افغان سکیورٹی فورسز کو بہتر تریبت یافتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ جب آپ ایک بے رحم دشمن سے لڑ رہے ہوتے ہیں تو اس میں ہلاکتیں ناگزیر ہوتی ہیں۔‘

’یہ ابھرتے ہوئے رہنما ہیں اور ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے دشمن سے لڑ رہے ہیں‘۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق نیٹو کے ایک سینیئر جنرل کے اس بیان کو افغان سکیورٹی فورسز پر اعتماد کے ووٹ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

افغان پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ سال دو ہزار بارہ کے مقابلے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعددا دگنا ہو گئی ہے۔

افغانستان میں سال دو ہزار چودہ میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد ملک میں سکیورٹی خاص طور پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تمام ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کے پاس ہو گی۔

سال دو ہزار چودہ کے بعد محدود تعداد میں غیر ملکی فوجی افغانستان میں تعینات ہوں گے تاہم یہ تعداد کتنی ہو گی اس پر افغان حکومت سے بات چیت جاری ہے۔

اسی بارے میں