چلی:عدلیہ کی دورِ آمریت میں اپنے کردار پر معافی

Image caption جنرل پنوشے نے اقتدار سنبھالنے کے بعد لمبے عرصے تک انتخابات نہیں کرائے اور قومی پارلیمان معطل رہی

لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں عدلیہ نے 1970 اور 80 کی دہائی میں فوجی آمر جنرل اگاستو پنوشے کے دور حکومت میں اپنے فیصلوں اور اقدامات پر معافی مانگی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ چلی میں ججوں نے فوجی آمریت کے مظالم میں برابر کے شریک ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

پ سے پنوشے-پ سے پرویز

پنوشے کی سوانح عمری

چلی میں عدلیہ کی نمائندگی کرنے والے ادارے کی جانب جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل پنوشے کے دور میں اُس وقت کے ججوں نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کا اپنا اصل کردار ہی ترک کیے رکھا تھا۔

نیشنل ایسوسی ایشن آف مجسٹریٹس آف دی جوڈیشری کے بیان کے مطابق اس کے ممبران اور خاص طور پر سپریم کورٹ ریاستی بدسلوکی کے دوران شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داریوں میں ناکام رہی۔

چلی میں فوجی بغاوت کی چالیسویں برسی سے ایک ہفتہ پہلے آنے والے بیان کے مطابق’ اب متاثرین اور معاشرے سے معافی مانگنے کا وقت آ گیا ہے، ججوں نے مداخلت کا مطالبہ کرنے والے متاثرین کی حالت زار کو رد کر دیا تھا‘۔

’آمریت کے دوران جن پر مظالم کیے گئے ان کے حقوق کو تحظ دینے کے لیے عدلیہ کو بہت زیادہ کام کرنا چاہیے تھا‘۔

جنرل اگاستو پنوشے1973 میں چلی کے شوشلسٹ حکمران سیلواڈور آلندے کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوگئے اور 1990 تک اقتدار پر قابض رہے۔ دسمبر سال دو ہزار چھ میں پنوشے کا انتقال ہوا اور ان پر مرتے دم تک سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے علاوہ کی کروڑ ڈالر کے گھپلے کا الزام لگتا رہا۔

جنرل پنوشے کے دور اقتدار میں ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کئی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظمیوں کے کوششوں کے باوجود جنرل پنوشے پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکا۔

جنرل پنوشے پر الزام ہے کہ ان کے دور میں تین ہزار سیاسی مخالف لاپتہ ہو گئے اور ان کا کبھی بھی سراغ نہ مل سکا۔

دسمبر سال دو ہزار چھ میں پنوشے کی موت کے بعد چلی کے دارالحکومت سانٹیاگو میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر جمع ہو گئے تھے اور اس موقع پر ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں