شام پر بات چیت عشائیے پر ہوگی: ولادیمیر پوتن

جی 20 سربراہی اجلاس روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو گیا ہے جس کا افتتاحی خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ شام پر بحث جو ایجنڈے پر باضابطہ طور پر شامل نہیں ہے عشائیے پر ہو گی۔

اس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے صدر براک اوباما، چینی صدر شی جن پنگ، برازیل کی صدر جیلما روسیف اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون روس پہنچ چکے ہیں۔

امریکی سینیٹ کمیٹی نے فوجی کارروائی کی منظوری دے دی

’شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی جارحیت ہو گی‘

’دس لاکھ شامی نقل مکانی پر مجبور‘

شام میں ’کیمیائی‘ حملے پر سخت عالمی ردعمل

جی 20 ممالک کا سربراہی اجلاس روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب شام کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

مذاکرات سے قبل روس کی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا کہ اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر کوئی بھی کارروائی ’جارحیت‘ ہو گی۔

تاہم امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے اور بدھ کو امریکی سینیٹ میں خارجہ امور سے متعلق کمیٹی نے شام میں محدود فوجی کارروائی کی مجوزہ قرارداد کی منظوری دے دی تھی۔

شام کا تنازع باضابطہ طور پر جی20 کے ایجنڈا پر نہیں ہے، تاہم توقع ہے کہ رہنما اجلاس سے باہر اس پر بات کریں گے۔

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پر مشتمل جی20 کا سالانہ سربراہی اجلاس کا مقصد عالمی معیشت پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

دوسری جانب عالمی طبی تنظیم میڈسنز ساں فرنٹئرز نے جمعرات کو کہا کہ ان کے ساتھ حلب شہر میں کام کرنے والے ایک سرجن ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایم ایس ایف نے اس ہلاکت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں مگر اس بات کا مطالبہ کیا کہ امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

اس سے قبل بدھ کو امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی نے شام کی حکومت کے اپنے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر شام کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے پیش کی جانے والی قرار داد کے حق میں دس جبکہ مخالف میں سات ووٹ ڈالے گئے۔ یہ ووٹنگ ایسے ایک وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر براک اوباما شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس مجوزہ قرارداد پر آئندہ ہفتے ووٹنگ ہو گی اور اس میں شام کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو زیادہ سے زیادہ 90 دنوں میں مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

مجوزہ قرارداد میں شام کے خلاف زمینی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ’ اس بات کی اجازت نہیں کہ امریکہ کی مسلح افواج کو شام میں زمینی کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے۔‘

اس سے پہلے امریکہ کے صدر باراک اوباما نے سٹاک ہوم میں کہا تھا کہ شام کے معاملے پر امریکہ اس کی کانگریس اور بین الاقوامی برادری کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ وہ شام کی جانب سے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف اپنے موقف پر قائم رہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انھوں نے شام کے معاملے پر کانگریس کو ووٹ کا کہہ کر اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’شام کے معاملے پر میری ساکھ نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔‘

اوباما نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق انتہائی حد (سرخ لکیر) انھوں نے نہیں کھینچی بلکہ یہ ان حکومتوں نے کھینچی ہے جس کا موقف ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکی کانگریس شام پر کارروائی کی منظوری دے دی گی تاہم بطور کمانڈر انچیف وہ اپنے ملک کے بہتر مفاد میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس شام کے معاملے پر اگلے ہفتے ووٹنگ کرے گی۔

اسی بارے میں