’اولاند کی تصویر واپس لینا غلط تھا‘

Image caption صدر اولاند کی یہ تصویر ان کے ایک سکول کے دورے کے دوران لی گئی تھی

خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس یا اے ایف پی نے کہا ہے کہ فرانس کے صدر فرنسواں اولاند کی ایک تصویر کا سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ان کی طرف سے اسے واپس لینے کا فیصلہ غلط تھا۔

اے ایف پی نے کہا کہ’اس تصویر کو ادارتی وجوہات کی بنا پر نا کہ فرانس کے صدارتی دفتر کے دباؤ کے تحت واپس لیا گیا تھا۔‘

خیبر رساں ادارے رائٹرز نے صدر اولاند کی یہ تصویر جاری نہیں کی تھی لیکن اس کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

صدر اولاند کی یہ تصویر ان کے ایک سکول کے دورے کے دوران لی گئی تھی جس میں ان کا چہرہ کچھ مختلف طرح سے نظر آ رہا ہے۔

اے ایف پی کے گلوبل نیوز ڈائریکٹر فلپ ماسونیٹ اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ’وقت گزرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اس تصویر کو واپس لینے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہا کہ ’ستم ظریفی یہ ہے کہ اس تصویر کو واپس لینے کی وجہ سے یہ فرانس میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل گئی اور اس کے ساتھ اکثر اے ایف پی کے متعلق منفی تبصرے پوسٹ کیے گئے۔‘

صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد فرسواں اولاند کو اپنی تشہیر میں مشکلات کا سامنا ہے اور انھیں فلان بائے (کیرامل پوڈنگ) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اخباروں نے منگل کو آنے والی تصویر میں ان کی شکل و شبہات کو ’سادہ ذہنیت‘ والا بیان کیا ہے۔

اسی بارے میں