برطانیہ میں حادثہ: سو گاڑیاں تباہ

Image caption اس حادثے میں کس شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں

برطانیہ میں کینٹ کی کاونٹی میں دھند کے باعث ایک پل پر سو گاڑیاں کے ٹکرانے سے کئی درجن افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں سے آٹھ شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ دھند کی وجہ سے کوئی شے نظر نہیں آ رہی تھی اور کراسنگ یا پل پر آنے والی گاڑیوں کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔ کچھ عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑیوں کے ٹکرانے سے ایک انبار سا لگ گیا جس میں لاریاں اور ایک گاڑیاں لے جانے والا ٹرالر بھی شامل تھا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق ابتدائی حادثے کے بعد دس منٹ تک اس شاہراہ پر آنے والی گاڑیاں اگلی گاڑیوں سے ٹکراتی رہیں۔

ایک ڈرائیور مارٹن سٹیمر نے حادثے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی ہولناک منظر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ گاڑیاں بڑی لاریوں کے نیچے دبی ہوئی تھیں اور لوگ زخمی حالت میں سڑک پر پڑے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دس سے بیس گز آگے کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی تھی اور جب وہ اس مقام پر پہنچے تو انھوں نے پانچ گاڑیوں کو دیکھا جو آپس میں ٹکرائیں تھیں اور ایک سڑک کے بیرونی جانب پڑی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں دس منٹ تک گاڑیوں کے ہنگامی انداز میں بریک لگانے پر پھر کسی دوسری گاڑی سے ٹکرانے کی زور دار آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا جائے حادثے کی طرف آتی گاڑیوں کو خبردار کرنے کے لیے بھاگا اور بعد میں ایک عورت روتی ہوئی ان کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ آپ لوگوں نے میری جان بچا لی۔

حادثے کے بعد کئی گھنٹوں تک امدادی کارکن جائے حادثے سے لوگوں کو ہستپالوں تک پہنچانے میں مصروف تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کراسنگ جہاں پر یہ حادثہ ہوا تھا چوبیس گھنٹوں کے لیے بند رہے گی۔ حادثے کا شکار ہونے والی سو سے زیادہ گاڑیوں کو وہاں سے ہٹانے سے پہلے پولیس حادثے کی وجہ کی تحقیق کرنا چاہتی ہے۔

شیپی جزیرے کو کینٹ سے ملانے والی یہ کراسنگ یا پل دس کروڑ پاونڈ کی لاگت سے سنہ دو ہزار چھ میں مکمل کی گئی تھی اور یہ ایک اعشاریہ دوپانچ کلو میٹر لمبی ہے۔

اسی بارے میں