’برطانیہ کو کیمیکل ہتھیاروں کے نئے شواہد ملے ہیں‘

Image caption شام کے بارے میں برطانیہ کا کردار ختم نہیں ہوا: ڈیوڈ کیمرن

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن نے کہا ہے کہ برطانیہ کو دمشق میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے نئے شواہد ملے ہیں۔

روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جی ٹوئنٹی ممالک کے اجلاس میں شرکت سے پہلے ڈیوڈ کیمرون نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ برطانوی پارلیمان کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف قرار داد کے بعد برطانیہ کا شام کے بارے کردار ختم نہیں ہوگیا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ برطانیہ شام کے مہاجرین کی امداد کے لیے کوششوں میں حصہ لے گا اور امن مذاکرات کو شروع کرانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

بی بی سی کے پولیٹیکل ایڈیٹر نک رابنسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ پارلیمان کے اجلاس کو بلانے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف کارروائی نہ کرنا غلطی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے خود پہلے ’ریڈ لائن‘ مقرر کی اور اب اگر کارروائی نہ کی تو دنیا میں آمروں کو انتہائی بھیانک پیغام جائےگا۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ بشار الاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا برطانوی لیباٹری پورٹن ڈاؤن میں اب بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے نمونوں پر ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں