آسٹریلیا میں انتخابی مہم آخری مراحل میں

آسٹریلیا میں سنیچر کو انتخابات میں وزیراعظم کیون رڈ کی لیبر پارٹی کا مقابلہ قدامت پرست حزبِ اختلاف کے رہنما ٹونی ایبٹ ٹونی ایبٹ سے ہو گا۔

انتخابات سے پہلے سیاسی حریف کیون رڈ اور ٹونی ایبٹ کی انتخابی مہم جاری ہے۔

حالیہ دنوں کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹونی ایبٹ کی سربراہی میں حزب اختلاف کے اتحاد کو حمکراں جماعت لیبر پارٹی پر سبقت حاصل ہے۔

جائزوں کے مطابق حزب اختلاف کے لبرل نیشنل اتحاد کو 53 فیصد جبکہ لیبر پارٹی کو 47 فیصد حمایت حاصل ہے۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا میں ایک اخبار دی ’ایج‘ کے علاوہ تمام اخبار حزب اختلاف کی حمایت کر رہے ہیں۔

لیکن وزیراعظم کیون رڈ نے کہا ہے کہ وہ ووٹرز اس فرق کو ختم کر سکتے ہیں جنہوں نے ابھی کسی جماعت کو ووٹ ڈالنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

انتخابی مہم میں معیشت، سیاسی پناہ دینے کی پالیسی اور کاربن ٹیکس جیسے موضوعات سرفہرست ہیں۔

جمعہ کو وزیراعظم رڈ نے نیو ساؤتھ ویلز سینٹرل کوسٹ میں جبکہ ٹونی ایبٹ نے میلبرن میں ایک واقع ایک گٹار فیکٹری میں مہم چلائی۔

کیون رڈ نے اس موقع پر اپنی معاشی پالیسوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح روزگار کی فراہمی، روزگار اور زیادہ روزگار، صحت کی سہولیات، ہسپتال، براڈ بینڈ انٹرنیٹ اور رہائشی سہولیات ہیں۔

انہوں نے حزب اختلاف کی انٹرنیٹ سروس کو فلٹر کرنے یا اس پر موجود مواد کو بلاک کرنے کی پالیسی کے اعلان کو واپس لینے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے’شکست‘ قرار دیا۔

اس سے پہلے حزب اختلاف نے انٹرنیٹ پر موجود بالغوں کے مواد کو فلٹر کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا تھا تاہم اس اعلان کو چند گھنٹوں بعد ہی واپس لے لیا گیا۔

ٹونی ایبٹ کے مطابق وہ انٹرنیٹ کو فلٹر کرنے کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے اور اس سے پہلے پالیسی کے اعلان میں الفاظ کا مناسب انتخاب نہیں کیا گیا تھا۔

مقامی میڈیا کے اندازوں کے مطابق سنیچر کو انتخاب میں ایک کروڑ چالیس لاکھ کے قریب افراد ووٹ ڈالیں گے۔

اس سے پہلےگزشتہ انتخاب میں ٹرن آؤٹ 94 فیصد تھا۔ آسٹریلیا میں قانون کے مطابق اٹھارہ سال اور اس زائد عمر کے ہر فرد کو لازمی ووٹنگ میں حصہ لینا ہے اور اگر کسی مناسب وجہ کے کوئی ایسا نہیں کرتا تو اس جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں