موغادیشو: صدارتی محل کے قریب دھماکہ، 15 ہلاک

Image caption اس ریسٹورنٹ کے باہر بارود سے بھری گاڑی کو اڑایا گیا

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں پولیس کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے قریب ایک ریستوران میں دھماکے کے نتیجے میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ مشہور ریستوران دی ولیج میں دوپہر کے کھانے کے وقت ہوا۔ یہ ریستوران سرکاری ملازمین اور صحافیوں میں بڑا پسند کیا جاتا ہے۔

تاہم ابھی یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ یہ دھماکہ کس نے کیا ہے۔ واضح رہے کہ صومالیہ کی حکومت شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق اس ریستوران کے قریب صدارتی محل بھی واقع ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس ریستوران کے باہر بارود سے بھری گاڑی کو اڑایا گیا اور اس کے بعد ایک خودکش بمبار نے جائے وقوعہ پر جمع افراد کے بیچ میں اپنے آپ کو اڑا دیا۔

دی ولیج نامی ریستوران صدارتی محل سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ریستوران سکیورٹی زون میں نہیں ہے۔

اس کا مالک احمد جاما سنہ 2008 میں برطانیہ سے واپس صومالیہ لوٹے تھے۔ پچھلے ستمبر میں اس ریستوران کو دو بار نشانہ بنایا گیا جس میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم الشباب کو 2011 میں دارالحکومت موغادیشو سے باہر دھکیل دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے الشباب نے دارالحکومت میں کئی بار کارروائیاں کی ہیں۔

الشباب کا ابھی بھی جنوبی اور وسطی صومالیہ کے کئی علاقے پر کنٹرول موجود ہے۔

اسی بارے میں