’امریکہ اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتا‘

Image caption اوباما امریکی کانگریس کو شام کے خلاف فوجی کارروائی پر قائل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں

صدر اوباما نے کہا ہے کہ شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امریکہ اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتا۔

یہ بات انہوں نے جی ٹوئنٹی کے ممالک کے سربراہی اجلاس سے وطن واپس پہنچنے پر اپنے خطاب میں کہی۔ صدر اوباما جی ٹوئنٹی کے روس میں منعقد ہونے والے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

سینٹ کی کمیٹی میں فوجی کارروائی کی منظوری

صدر اوباما شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہیں جس میں چودہ سو انتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے اور جن میں چار سو بچے شامل تھے۔

یورپی یونین میں شامل ملکوں کے وزراء خارجہ کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ مکمل ہونے تک شام کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔

شام کی حکومت اور اس کے اتحادی روس کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال باغیوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔

ریڈیو اور انٹر نیٹ پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ امریکی عوام عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں سے تھک چکے ہیں لیکن شام کے خلاف فوجی کارروائی محدود ہو گی۔

انھوں نے کہا ’ ہم ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہونے کے ناطے ہم نے شام میں جو مناظر دیکھے ہیں جن پر ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں ان کے استمعال کے خطرات بڑھ جائیں گے، یہ ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ بھی لگ سکتے ہیں جو انھیں ہمارے خلاف استعمال کرسکتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر اقوام کو بھی حوصلہ ملے گا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال پر کوئی رد عمل نہیں ہوتا۔

اسی سلسلے میں وہ وائٹ ہاؤس سے منگل کو براہ راست نشر ہونے والے خطاب میں عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔

قبل ازیں روس کے صدر ولادمیر پوتن نے خبردار کیا تھا کہ شام پر حملہ پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث بنے گا۔

روس اور چین کا جو شام کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں سلامتی کونسل سے قرار داد کی منظوری کی راہ میں حائل ہیں اصرار ہے کہ سلامتی کونسل کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی ہو گی۔

روس نے تویہاں تک کہا تھا کہ ایسی کوئی کارروائی بین الاقوامی قانون کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔

صدر اوباما کو کانگریس کو رضامند کرنے کے لیے صرف چند دن کا وقت حاصل ہے جس کا اجلاس گرمیوں کے وقفے کے بعد سوموار سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے امور کے نامہ نگار مارک مرڈل کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کانگریس سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی منظوری حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش میں ہیں کیوں صدر کا کہنا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی اب امریکہ کی ساکھ کا سوال بن گیا ہے۔

شام کے خلاف یک طرفہ کارروائی جارحیت ہو گیامریکہ کیمیائی ہتھیار کیسے تباہ کرے گا؟

امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کانگریس اور سینیٹ میں اس مسئلہ پر اگلے ہفتے ووٹنگ کیے جانے کا امکان ہے۔

صدر اوباما نے اسی وجہ سے اپنا کیلیفورنیہ جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے اور دارالحکومت واشنگٹن میں ہی موجود رہنے کو ترجیح دی ہے۔

امریکہ واپسی سے قبل صدر اوباما نے کہا ہے تھا کہ وہ منگل کو اپنے خطاب میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا مقدمہ قوم کے سامنے پیش کریں گے اور قوم اور بین الاقوامی برداری کو شام کے خلاف ضروری اور مناسب فوجی کارروائی کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

صدر اوباما نے کہا تھا کہ جس قسم کی دنیا میں ہم رہنا چاہتے ہیں اور اس طرح کے اندوہناک رویے کی حوصلہ شکنی کرنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم آئندہ چند روز میں کیا فیصلے کرتے ہیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ کانگریس کو قائل کرنا کوئی آسان کام نہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس اس معاملے پر کانگریس کے ارکان کو روزانہ خفیہ بریفنگ دے رہا ہے۔

بی بی سی اور اے بی سی نیوز کے ایک مشترکہ سروے کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک تہائی ارکان شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے سوال پر ابہام کا شکار ہیں جبکہ اُن ارکان کی اکثریت جو اس بارے میں فیصلہ کر چکے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔

کئی ارکان کو اس بارے میں تشویش ہے کہ شام پر حملہ امریکہ کو خطے میں ایک اور طویل تنازع میں الجھا دے گا اور فوجی کارروائی سے خطے میں مزید تشدد بڑھے گا۔

لیکن اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر سمنتھا پاور کا کہنا ہےکہ ایسی کوئی مداخلت بامقصد اور محدود وقت کے لیے ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع ہی سے صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ شام کے خلاف کارروائی میں کوئی فوجی زمین پر نہیں اتارا جائے گا۔

اسی بارے میں