امریکہ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے: بشار الاسد

Image caption شام کے خلاف فوجی کارروائی کی صورت شام کے اتحادی امریکہ کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں: بشار الاسد

شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

پی بی ایس چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ اگر مغرب نے حملہ کیا تو اس کے حلیف اس کا جواب دے سکتے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری شام کے خلاف فوجی کارروائی کی لیے یورپی اور عرب رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کیری کی عرب رہنماؤں سے ملاقات

یورپی یونین کے فوجی کارروائی پر تحفظات

’امریکہ اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتا‘

پیر کو کانگریس کے ارکان گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد واپس لوٹیں گے اور پہلے اجلاس میں صدر اوباما کی جانب سے ’محدود‘ حملے کے بارے میں بحث کریں گے۔ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے اراکین بدھ تک اس معاملے پر رائے شماری میں حصہ لے سکتے ہیں۔

امریکہ شامی حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے 21 اگست کو دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ میں باغیوں کے خلاف سیرن گیس استعمال کی تھی جس سے 1429 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بشار الاسد کی حکومت اس حملے کا الزام باغیوں پر لگاتی ہے جو ڈھائی برس سے حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اس جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی دوران اطلاعات آئی ہیں کہ شامی باغیوں نے دمشق کے شمال میں تاریخی عیسائی بستی معلولا پر قبضہ کر لیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا کہ باغی وہاں میں عیسائیوں کے ثقافتی ورثے کو نقصانات پہنچا سکتے ہیں۔ معلولا کے رہائشی اب بھی قدیم آرامی زبان بولتے ہیں۔

ادھر شام کی اپوزیشن نے خبر دار کیا ہے کہ حکومتی افواج نے ملک کے مغربی حصے میں اسد جھیل پر باندھےگئے بند کو توڑ دیا ہے جس سے وادی فرات میں سیلاب آنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

جوابی کارروائی

بی پی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ یہ ثابت کرنا امریکہ کا کام ہے کہ شامی فوج نے غوطہ میں کیمیائی حملہ کیا ہے:

’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ میں نے اپنے ہی عوام کے خلاف کیمیائی اسلحہ استعمال کیا ہے۔‘

صدر اسد نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ ان کے پاس کیمیائی اسلحہ ہے، لیکن کہا کہ اگر ایسے ہتھیار موجود بھی ہیں تو وہ ’مرکزی کنٹرول‘ میں ہیں۔

اسد نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر شام پر حملہ ہوا تو ’ان کے حلیف کسی نہ کسی قسم کی جوابی کارروائی کریں گے۔‘

شام کے حلیفوں میں روس، چین اور ایران کے علاوہ لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ’ناقابلِ تردید‘ ثبوت نہیں ہے کہ 21 اگست کو ہونے والا حملہ شامی حکومت نے کیا تھا، لیکن ’شواہد سے قطع نظر عقلمِ سلیم کہتی ہے‘ کہ حکومت اس کی ذمے دار ہے۔

وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف ڈینس میک ڈونو نے اتوار کو کہا: ’ہم نے اس حملے کے نتائج کی ویڈیو دیکھی ہے۔ کیا ہمارے پاس کسی شک و شبے سے بالاتر، ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں؟ یہ کوئی عدالت نہیں ہے اور انٹیلی جنس معلومات اس طرح کام نہیں کرتیں۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی بشار الاسد کا بیان مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ شواہد ’خود اپنے منھ سے بول رہے ہیں۔‘

انھوں نے پیرس میں عرب لیگ کے وزارئے خارجہ سے ملاقات میں کہا: ’اسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا افسوس ناک استعمال بین الاقوامی ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کرتا ہے۔‘

کیری پیر کی صبح برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات کریں گے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کے باوجود ولیم ہیگ نے امریکی موقت کی تائید کی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں سختی سے اس بات کا قائل ہوں کہ دنیا کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘

بی بی سی اور اے بی سی نیوز کی جانب سے کیے جانے والے ایک مشترکہ سروے کے مطابق کانگریس کے ایک تہائی ارکان نے ابھی تک شام پر حملے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، اور جنھوں نے فیصلہ کر لیا ہے ان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ صدر کے خلاف ووٹ دیں گے۔

ان میں سے بہت سوں کا خیال ہے کہ شام پر حملے سے امریکہ ایک اور جنگ میں الجھ کر رہ جائے گا اور اس جنگ کے شعلے پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں