وردک: افغان انٹیلیجنس کے دفتر پر حملہ

افغانستان کے صوبہ وردک میں افغان انٹیلیجنس کے دفتر پر خود کش بمباروں کے حملے میں عملے کے کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صوبہ وردک میں ہونے والے اس حملے میں پانچ خودکش بمباروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے۔

اس سے قبل افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں حکام کا کہنا تھا کہ نیٹو کے ایک فضائی حملے میں نو عام شہریوں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تاہم نیٹو کی ترجمان کا کہنا تھا کہ حملے میں کسی بھی عام شہری کے ہلاک ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں اور اس کارروائی میں دس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آوروں نے وردک میں اہم سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا۔

گورنر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے سے قریبی عمارتوں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں چھ شدت پسند شامل تھے اور پہلے خودکش کار بم دھماکہ کیا گیا۔

مقامی دکانداروں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں آنے والی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

اس دھماکے کے بعد افغان سپیشل فورسز اور پانچ شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

طالبان اور القاعدہ کے شدت پسند وارداک کو دارالحکومت کابل پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

طالبان پاکستان کے ساتھ سرحد کے قریب مشرقی صوبے کنڑ میں بھی مسلسل حملے کرتے رہتے ہیں۔

کنڑ کی پولیس نے بی بی سی کے بلال سروری کو بتایا کہ سنیچر کو ہونے والے فضائی حملے میں ایک ٹرک کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق اس ٹرک میں تین عرب اور تین افغان شدت پسند سوار تھے۔

عام شہریوں کی ہلاکتین افغان اور نیٹو فورسز کے درمیان تناؤ کا باعث رہی ہیں۔

رواں سال فروری میں کنڑ میں نیٹو کی فضائی کارروائی میں مبینہ طور پر دس عام شہری ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد افغان صدر حامد کارزئی نے افغان سپیشل فورسز پر نیٹو سے فضائی مدد حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

افغان ایئر فورس کی محدود قوت کے باعث نیٹو کی فضائی مدد کو اہم سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ دس سالوں کے دوران صوبہ کنڑ طالبان اور امریکی اور افغان فورسز کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز رہا ہے۔

گزشتہ سال اگست میں کنڑ میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں طالبان کے اہم کمانڈر ملا داداللہ ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی سال مئی میں نیٹو نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک فضائی حملے میں القاعدہ کے سینئر رہنما سخر الطیفی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تقریباً 1000 عام شہری ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان میں زیادہ تر افراد شدت پسندوں کے حملوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

سنہ دو ہزار چودہ کے آخر تک تمام غیر ملکی جنگی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے جبکہ افغان حکومت کی منظوری کے بعد قلیل تعداد میں غیر ملکی فوجی مقامی فورسز کی تربیت کے لیے وہاں رکیں گے۔