’کارروائی نہ کرنے کے خطرات، کرنے سے زیادہ‘

Image caption کیا جان کیری کی کوششوں سے ایک شام کے خلاف ایک اتحاد تشکیل پا رہا ہے؟

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر فوجی کارروائی نہ کرنے میں خطرات کارروائی کرنے کے خطرات سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے یہ بات امریکہ واپس جانے سے قبل لندن میں کہی جبکہ دوسری جانب روس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ امن مذاکرات پر زور دے۔

شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس موقعے پر کارروائی کرنے سے رکنا نہیں چاہیے کیونکہ کارروائی کرنے کے خطرات سے نہ کرنے کے خطرات زیادہ ہیں۔‘

شامی وزیر خارجہ ولید معلم نے ماسکو میں بات کرتے ہوئے، امریکہ پر الزام عائد کیا کہ امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا ’عذر‘ بنا کر جنگ شروع کرنا چاہتا ہے۔

Image caption جان کیری کا لندن پہنچنا جبکہ برطانوی حکومت کا اس تنازعے میں کردار بہت محدود ہو گیا ہے کیا معنی رکھے گا؟

انھوں نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو کے ساتھ رپورٹروں سے بات کی جنہوں نے اصرار کیا کہ اس تنازعے کے حل کے لیے پر امن مقاصد کا کوئی متبادل نہیں ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ ولید معلم نے ان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جنیوا مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

سرگئی لاورو نے کہا کہ ’میں اپنے امریکی ساتھیوں سے اپیل کروں گا کہ وہ امن کے قیام پر توجہ مرکوز کریں نہ کہ جنگ کی تیاری کے منظرنامے پر‘۔

جان کیری نے ان بیانات کے کچھ دیر بعد ہی لندن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایک فریق سمجھتا ہے کہ وہ اپنے ہی لاتعداد شہریوں کو بغیر کسی گرفت کے ہلاک کر سکتا ہے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے تو وہ کبھی بھی مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔‘

امریکی وزیر خارجہ پیرس سے عرب لیڈروں سے ملاقاتوں کے بعد لندن پہنچے ہیں جہاں وہ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں