شام کے لیے روسی تجویز تنازعات کا شکار

Image caption امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ معاملے کو لٹکانے کے حربوں میں نہیں آئے گا

روس کی طرف سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کی تجویز کی وجہ سے اقوامِ متحدہ میں مجوزہ قراردادیں تنازِعات کا شکار ہوگئیں ہیں۔

برطانیہ، امریکہ اور فرانس چاہتے ہیں کہ شامی کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کے حوالے سے حتمی وقت کا تعین کیا جائے اور اس میں شام کی طرف سے ناکامی کی صورت میں نتائج کو بھی قرارداد میں واضح کر دیا جائے۔

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ معاملے کو لٹکانے کے حربوں میں نہیں آئے گا۔

ادھر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں کوئی بھی ایسا قرارداد قابلِ قبول نہیں ہوگی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری شام پر ڈالی جائے۔ روس نے زور دیا ہے کہ ان کی طرف سے شامی کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز کی حمایت کی جائے۔

شام نے روسی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے روس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ شام اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی تحویل میں دینے پر رضا مند ہے۔

کیمیائی اسلحہ:’شام کو روس کی تجویز منظور ہے‘

’کیمیائی ہتھیار ترک کر دو‘: شام کو روسی تجویز

شام پر حملہ روکا جا سکتا ہے: اوباما

روس کے خبر رساں ادارے انٹر فیکس کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے منگل کو کہا کہ دمشق کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور ان ہتھیاروں کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کو اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جس میں 1429 افراد ہلاک ہوئے تاہم دمشق ان الزامات کو رد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغیوں نے کیا ہے۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا شام کے معاملے پر ایک اہم اجلاس ہونا تھا لیکن اسے مزید مشاورت کے لیے منسوخ کر دیا گیا۔ روس نے اس اجلاس کی درخواست کی تھی جسے بعد میں اس نے واپس لے لیا۔

ادھر امریکی حکام کے مطابق امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری جمعرات کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کر رہے ہیں۔

برطانوی حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے مشترکہ قرارداد کے متن پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا ہے۔

ہمارے نامہ نگار نیک روبنسن کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے سفارت کار آپس میں’کیا، کہاں، کب، کون اور کیسے‘ کے سوالات پر بحث کر رہے ہیں، باالفاظِ دیگر وہ یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شام سے کون سے ہتھیار ہٹائے جائیں، ان کو کہاں لے جایا جائے، یہ کتنے وقت میں ہو اور اس کی نگرانی کون کرے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے منگل کو کہا کہ وہ ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے جس میں شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی دی گئی ہو۔

روسی دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’سرگئی لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس کی طرف سے اقوامِ متحدہ میں ایک ایسی قرارداد جس کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی ذمہ داری شامی حکام پر عائد کی جائے، روس کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

اس سے پہلے برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں یہ یقینی بنایا جائے کہ روس کی تجویز ’کوئی چال نہیں تھی۔‘

انھوں نے شامی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں اس کے لیے، وقت کا تعین، طریقۂ کار اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں اس کے نتائج واضح کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں شام کے حوالے سے قرارداد پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کے باب چھ یا کہ باب سات کے تحت تیار کی جائے۔

باب سات دیگر طریقوں کی ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے جبکہ باب چھ صرف پرامن طریقوں سے مسائل کو حل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل میں اس قرار داد کے حوالے سے بحث میں کئی دن یا پھر ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایوانِ نمائندگان کی فوجی خدمات کی کمیٹی کو بتایا کہ امریکہ روس کی طرف سے شامی ہتھیاروں کے معاملے پر ایک مفصل تجویز کا انتظار کر رہا ہے لیکن ’ہم لمبے عرصے تک انتظار نہیں کریں گے۔‘

انھوں نے کانگریس پر صدر براک اوباما کی حمایت کرنے کے لیے زور دیا۔

روس کی طرف سے تجویز کی بہت کم تفصیلات سامنے آئیں ہیں۔ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں کہا تھا کہ ’وہ شامی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کے حوالے سے ایک قابلِ عمل، مخصوص اور حقیقی منصوبہ تیار کر رہے ہیں جسے بشمول امریکہ تمام متعلقہ فریقین کو پیش کیا جائے گا۔‘

امریکی کانگریس میں اس ہفتے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے قرارداد پر ووٹنگ ہونی تھی لیکن روسی تجویز کی وجہ سے اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں