شام کے معاملے پر بڑی طاقتوں کی بات چیت

Image caption روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیرِخارجہ جان کیری جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کر رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں روس کے منصوبے پر بات چیت کے لیے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، چین، برطانیہ ، فرانس اور روس کے سفارت کاروں کے درمیان یہ ملاقات ایک گھنٹے سے بھی کم وقت تک جاری رہی۔

شام کا کیمیائی اسلحہ ختم کرنے کے لیے قرارداد

کیمیائی اسلحہ:’شام کو روس کی تجویز منظور ہے‘

شام پر حملہ روکا جا سکتا ہے: امریکی صدر

اجلاس ختم ہونے کے بعد سفارت کار بغیر کچھ بتائے چلے گئے۔

ایک سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مذاکرات علامتی نوعیت کے تھے اور زیادہ سنجیدہ سوالات پر بات چیت جنیوا میں ہوگی۔

برطانیہ ، فرانس اور امریکہ ایک ایسی قرار داد لانا چاہتے ہیں جس کی پابندی کرنا شام پر لازمی ہو جبکہ روس اس کا مخالف ہے۔

اس سے پہلے روس نے کہا تھا کہ اس نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اپنا منصوبہ امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔

روس نے پیر کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کی تجویز دی تھی جس کا شام نے خیرمقدم کیا تھا۔

اس تجویز کی وجہ سے امریکی صدر براک اوباما نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے شام کے خلاف فوجی کارروائی کو روک دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اب شام کے بارے میں کسی بھی قرار داد پر تناؤ کے ماحول میں مذاکرات ہونگے۔

برطانیہ فرانس اور امریکہ کے سفارت کاروں نے سکیورٹی کونسل میں ویٹو کی طاقت رکھنے والے پانچ ممالک کے اجلاس سے پہلے اپنی ایک علیحدہ ملاقات کی۔

فرانس اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد تیار کرنے پر پہلے ہی سے کام کر رہا ہے جو شام کی ناکامی کی صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔

ادھر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں کوئی بھی ایسی قرارداد قابلِ قبول نہیں ہوگی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری شام پر ڈالی جائے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا باب سات دیگر طریقوں کی ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے جبکہ باب چھ صرف پرامن طریقوں سے مسائل کو حل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے اجلاس سے پہلے ایک سفارت کار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ’میرے خیال میں ہمارے درمیان اتفاق رائے ہوجائے گا۔‘

تاہم ایک دوسرے سفارت کار نے کہا تھا کہ’وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے نمٹنے کے حوالے سے منصوبے کے عام اصولوں پر بات کریں گے۔ حقیقت میں وہ اب قرارد کے مسودے پر بات چیت نہیں کریں گے۔‘

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔

اس سے پہلے روس نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اپنا منصوبہ امریکہ کے حوالے کرنے کا کہا تھا۔

روس کے خبر رساں ادارے نے ایک روسی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کے متعلق اپنا منصوبہ امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔توقع ہے کہ ہم اس پر جنیوا میں بات چیت کریں گے۔‘

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو اور امریکی وزیرِخارجہ جان کیری جمعرات کو جنیوا میں ملاقات کر رہے ہیں جہاں وہ روسی منصوبے پر بات چیت کریں گے۔ انھوں نے بدھ کو ٹیلی فون پر بات بھی کی تھی۔

ایک روسی اہلکار نے خبر رساں ادارے اتار تاس کو بتایا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات دو طرفہ ہوگی اور اس میں اقوامِ متحدہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ ملاقات جمعرات کو شروع ہوگی اور جمعہ کو ختم ہو جائے گی۔ تاہم یہ سنیچر تک جاری رہ سکتی ہے۔‘

روسی منصوبے کے متعلق مزید معلومات افشاں نہیں کی گئیں ہیں۔

ماسکو میں بی بی سی کے ڈینئل سانڈفورڈ کا کہنا تھا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ روس اور شام کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ شام آخر کار ان ہتھیاروں کو ختم کرنے پر آمدہ ہو جائے گا کیونکہ روس یہ دلائل دے گا کہ اس کے منصوبے کی کامیابی کا یہ واحد راستہ ہے۔

شام کے وزیرِخارجہ ولیدالمعلم نے منگل کو کہا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیار ہیں اور انھوں نے روسی منصوبے کی واضح حمایت کی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم کیمیائی ہتھیاروں کی جگہ کے بارے میں معلومات دینے، اس کی پیداوار روکنے اور ان چیزوں کو روس، دوسرے ممالک اور اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کو دکھانے کے لیے تیار ہیں۔‘

Image caption باغیوں کے آذاد شامی فوج اور النصرت فرنٹ کے یونٹوں نے جمعرات کو چند گھنٹوں کے لیے ملولہ پر قبضہ کیا لیکن فضائی بمباری کی وجہ سے وہ پسپا ہوئے

یاد رہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا تھا کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

ادھر بی بی سی کے مشرق وسطیٰ ایڈیٹر جیریمی بوون کا کہنا ہے کہ ملولہ کے عیسائی قصبے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حکومت اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے ثبوت نہیں دیکھے جس سے القائدہ سے منسلک جہادیوں کی طرف سے مذہبی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی تصدیق ہو۔

باغیوں کے آزاد شامی فوج اور النصرہ فرنٹ کے یونٹوں نے جمعرات کو چند گھنٹوں کے لیے ملولہ پر قبضہ کیا لیکن حکومت کی طرف سے فضائی بمباری کی وجہ سے وہ پسپا ہوئے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ اتوار کو ملولہ پر باغیوں کے حملے کی وجہ سے سرکاری فوج اور ملیشیا پسپا ہوگئی ہے۔

دمشق سے 55 کلو میٹر شمال میں واقع اس قصبے میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب باغیوں نے گذشتہ ہفتے وہاں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

لڑائی کی وجہ سے ملولہ کے تقریباً 3300 باشندوں نے ملک کے مختلف محفوظ مقامات میں پناہ لی ہے اور بعض افراد دمشق چلے گئے ہیں جہاں انھوں نے دعویٰ کیا کہ النصرٹ فرنٹ نے چرچوں اور مجسموں کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ ہمارے نامہ نگار نے کہا کہ انھیں ایسے ثبوت نہیں ملے ہیں۔

شام میں 2011 میں شروع ہونے والے کشیدگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں