بغداد: مسجد میں بم دھماکے سے 35 ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک شیعہ مسجد میں دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقے قصرہ میں ہوا جب نمازی مسجد سے شام کی نماز کے بعد نکل کر جا رہے تھے۔

دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پچپن افراد زخمی بھی ہوئے۔

اب تک کسی بھی گروہ نے اس دھماکے کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے سنی شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔

حالیہ مہینوں میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ 2008 کے بعد سے اب تک سب سے اونچی سطح ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوری کے بعد سے اب تک پانچ ہزار افراد ہلاک جبکہ بارہ ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

بدھ ہی کو عراق کے شمالی شہر موصل میں ایک پولیس کے قافلے پر بم حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے۔

اس تشدد کی لہر میں حالیہ اضافہ اپریل کے مہینے میں فوج کی جانب سے ہویجہ کے قریب ایک حکومت مخالف احتجاجی کیمپ پر حملے کے بعد دیکھنے میں آیا سنی عرب شہریوں کی جانب سے بنایا گیا تھا۔

شام میں جاری تنازعے سے بھی عراق متاثر ہوا ہے جہاں تشدد میں فرقہ واریت کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں عراقی سکیورٹی حکام نے بغداد کے مضافاتی علاقوں سے مبینہ طور پر سینکڑوں القائدہ کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔

اس گرفتاریوں کی مہم کو شیعہ اکثریتی حکومت نے ’شہیدوں کا انتقام‘ قرار دیا ہے۔

اس آپریشن سے جو زیادہ تر سنی اکثریتی علاقوں میں کیا جا رہا ہے سنی بہت غصے میں ہیں اور اس سے تشدد کے واقعات میں کمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں