شام پر روس امریکہ مذاکرات کا دوسرا دن

Image caption شام پہلے ہی کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی روسی تجویز پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری شام میں جاری کشیدگی کے حوالے سے جمعے کے روز بھی ملاقات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعرات کو شروع ہونے والے ان مذاکرات میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کے بارے میں جامع مذاکرات کیے تھے۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شام کے معاملے پر مذاکرات اختتامِ ہفتہ پر بھی جاری رہیں گے۔

جمعے کے روز ہونے والے مذاکرات میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی لخدار ابراہیمی کی شرکت بھی متوقع ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی امور پر اب بھی وسیع پیمانے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ملاقات سے پہلے جان کیری نے کہا تھا کہ دنیا دیکھ رہی کہ صدر بشارالاسد کیمیائی ہتھیاروں کو ترک کرنے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے یا نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں طاقت کا استعمال لازی ہوگا۔

جمعرات کو جنیوا میں ہونے والی ملاقات سے پہلے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ روسی منصوبے پر عمل درآمد سے شام مغربی ممالک کی فوجی کارروائی سے بچ سکے گا۔

سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ حل ہونے کے بعد شام کے خلاف امریکہ کی طرف سے فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکی کی وجہ سے شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوام برادری کے حوالے کرنے پر تیار ہوا ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتکاری سے شام کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکے گا۔

’شام پر کارروائی دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دیے گی‘

شام کے معاملے پر بڑی طاقتوں کی بات چیت

’سب فریق جنگی جرائم کے مرتکب ہیں‘

شام پر دباؤ جاری رکھیں گے:صدر اوباما

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز روبنز کا کہنا تھا کہ سرگئی لاوروف اور جان کیری کے درمیان بات چیت بہت اہمیت کی حامل ہے جس کا مقصد گذشتہ ڈھائی سال سے چلنے والی شامی کشیدگی کے حل میں تعطل کو ختم کرنا اور صدر بشارالاسد سے کیمیائی ہتھیار لے لینا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے مذاکراتکاروں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی جس میں ہتھیاروں کے ماہرین بھی شامل تھے۔

امریکی حکام نے پہلے ہی کہا تھا کہ روسی منصوبہ ’قابلِ عمل لیکن مشکل‘ ہے۔

ابتدائی ملاقات میں سرگئی لاوروف نے روسی منصوبے کے تین اہم نکات بھی بیان کیے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

  • شام کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل ہو جائے گا جس کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار اور ان کا استعمال منع ہے۔
  • شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی جگہ اور اس کے پروگرام کی تفصیلات ظاہر کرے گا۔
  • کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں خصوصی اقدامات کرنے کا فیصلہ ماہرین کریں گے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ’مجھے یقین ہے کہ شام میں امن لانے کا موقع ہمارے پاس ہے جسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔‘

سرگئی لاوروف سے ملاقات سے پہلے جان کیری نے شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی سے ملاقات کی تھی۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ نے شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل ہونے کے لیے دستاویزات وصول کرنے کی تصدیق کر دی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا تھا کہ شام سے موصول ہونے والے دستاویزات کا ترجمہ کیا جا رہا ہے۔

اس کنونشن میں شامل ہونے والے ارکان، اُن کے پاس تمام کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا اعلان کرتے ہیں اور اسے تباہ کرتے ہیں۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔

اس سے پہلے شام کے صدر بشارالاسد نے ایک روسی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئےکہا تھا کہ شام اقوامِ متحدہ کو دستاویزات بھیج رہا ہے اور کنونشن پر دستخط کے ایک ماہ بعد وہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ڈیٹا فراہم کر دے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے دے گا۔

صدر الاسد نے ٹی وی چینل روسیا 24 سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کو امریکی حملے کے خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ روس کی تجویز پر عالمی کنٹرول میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’شام اپنے کیمیائی ہتھیار روس کی وجہ سے عالمی کنٹرول میں دے رہا ہے اور امریکی دھمکیاں اس فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوئی ہیں۔‘

روس نے پیر کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے کی تجویز دی تھی جس کا شام نے خیرمقدم کیا تھا۔

اس تجویز کی وجہ سے امریکی صدر براک اوباما نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے شام کے خلاف فوجی کارروائی کو روک دیا تھا۔

برطانیہ ، فرانس اور امریکہ اقوام متحدہ میں ایک ایسی قرارداد لانا چاہتے ہیں جس کی پابندی کرنا شام پر لازمی ہو جبکہ روس اس کا مخالف ہے۔

فرانس اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد تیار کرنے پر پہلے ہی سے کام کر رہا ہے جو شام کی ناکامی کی صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دیتی ہے۔

ادھر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں کوئی بھی ایسی قرارداد قابلِ قبول نہیں ہوگی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری شام پر ڈالی جائے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا باب سات دیگر طریقوں کی ناکامی کی صورت میں فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے جبکہ باب چھ صرف پرامن طریقوں سے مسائل کو حل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

شام میں 2011 میں شروع ہونے والے کشیدگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں