سمندر میں 76 دن

سٹیون كیلاہن 1982 میں بحر اوقیانوس میں پھنس گئے تھے اور انہوں نے ان دنوں کے بارے میں بی بی سی کو بتایا جب وہ اس وسیع اور گہرے سمندر میں زندگی کا کنارہ تلاش کر رہے تھے۔

ان کی کہانی چار آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم لائف آف پائی سے بہت ملتی جلتی ہے، جو یان مارٹل کے ناول پر مبنی ہے۔

لائف آف پائی فلم کے بنانے میں انہوں نے بھی ڈائریکٹر آنگ لی کی مدد کی جو فلم کو حقیقت کے انتہائی قریب رکھنا چاہتے تھے۔

سٹیون بتاتے ہیں کہ وہ جزائر کنیری جزیرہ سے نکلے ہی تھے کہ شدید طوفان نے انہیں آن گھیرا۔

اسی طوفان کے دوران رات کا وقت تھا۔ سمندر میں شدید سمندری طوفان کے باجود بظاہر سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا کہ اچانک تیز دھماکے کی آواز سنائی دی۔

سٹیون کہتے ہیں کہ میری کشتی میں تیزی کے ساتھ پانی گھسنے لگا۔ میری کشتی کے ڈیک پر لائف رافٹ یعنی بچاؤ والی کشتی تھی۔ یہ سب کچھ اتنی اچانک سے ہوا کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا۔

مجھے دھماکے کی وجہ کا پتہ نہیں چلا اور میں لائف رافٹ کے سہارے سمندر میں اترا اور اس دوران کشتی پانی میں تقریبا مستحکم ہو گئی تھی مگر ڈوبی نہیں۔

کشتی میں پانی بھر جانے کی صورت میں اس پر جانا ممکن نہیں تھا لیکن مجھے ایمرجنسی کِٹ کے لئے کشتی پر واپس جانا تھا کیونکہ ایمرجنسی کٹ میں بیگ تھا جس میں میرے کھانے کا سامان اور ضرورت کی دیگر چیزیں تھیں۔

سٹیون کہتے ہیں کہ جب میں لائف رافٹ پر پہلے دن تھا تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں مرنے جا رہا ہوں۔ میرے بچنے کا تجربہ باقی لوگوں کے تجربات سے بہت ملتا جلتا ہے۔

سب سے پہلے میں نے خطرے سے دور ہونے کی کوشش کی اور کشتی سے باہر آ گیا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میری باقی زندگی ختم ہو گئی ہے۔

میں نے اپنے ارد گرد دیکھا چاروں طرف سمندر کی خوبصورتی پھیلی ہوئی تھی۔ کوئی مچھلی دکھائی نہیں دے رہی تھی اور سمندر کا کنارہ بہت دور تھا۔

میں تو یہ دیکھ کر ڈر گیا کہ اس سمندر سے باہر نکلنا بہت مشکل ہو گا۔

میں خود سے باتیں کر کے خود کو حوصلہ دیتا رہا۔

سٹیون کا کہنا ہے کہ میں کیپٹن بوائے کی طرح محسوس کر رہا تھا اور اپنے آپ کو معمول کا احساس دلانے کی کوشش کرتا رہا جس دوران میں نے اپنے بارے میں بہت سی نئی چیزیں سيكھي، جو اس سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھیں۔

ماحول کے ساتھ میں نے ایک رشتہ بنا لیا اور پورے سفر میں سمندری مچھلیاں میرے لئے جادو کی طرح تھیں۔ وہ میری ساتھی کی طرح ہو گئی تھیں۔ وہ میرا غذا بھی تھیں۔ میں ان کو بھوک مٹانے کے لیے کھاتا تھا۔

میرا جسم ضرورت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کر رہا تھا۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ میرا بچنا بہت مشکل ہے۔ مجھے کوئی بچانے نہیں آئے گا۔

اس سارے عرصے میں میرے پاس سے نو بحری جہاز گزرے تھے لیکن کسی کی میرے اوپر نظر نہیں پڑی۔

میں خوش ہوا جب میں نے ان جہازوں کو دیکھا میں نے کئی طرح کے اشارہ بھیجے لیکن وہ آگے نکل گئے اور میں پھر مایوس ہو گیا۔

سٹیون کا خیال ہے کہ ان کے بچنے میں قدرت نے بڑا کردار ادا کیا۔

میں آخر ایک ـزیرے پر پہنچا جہاں پر تین ماہی گیر مچھلی پکڑنے کے لیے آئے تھے اور انہوں نے میری رافٹ کے اردگرد جمع مچھلیوں کی تاک میں اڑتے پرندوں سے مجھے تلاش کیا۔

میں نے اس جزیرے تک آنے کے لئے تین ہزار میل کا فاصلہ طے کیا تھا اور تین ماہی گیروں کو دیکھ کر لگا کہ مجھے جنت مل گئی ہو۔

میں نے ان کو ایک نایاب مچھلی دی، جو میں سمندر میں پکڑی تھی۔ میرے جسم پر نشانات تھے اور میرا وزن کافی کم ہو چکا تھا۔

جب میں نے ان کو اپنی کہانی سنائی تو وہ بےفکر انداز سے دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے بہت سارے لوگوں کو بہت سنگین حالات میں دیکھا تھا۔

مجھے کچھ دیر کے لئے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ ڈاکٹر میرے جسم کو دھو رہے تھے اور میں درد سے کراہ رہا تھا۔

لیکن صاف پانی کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا اور مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ میں اس وقت بچے کی طرح محسوس کر رہا تھا۔

میری حسیں بہت فعال ہو گئی تھیں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ رنگ اور بو کو پہلی بار دیکھ اور محسوس کر رہا ہوں۔

لائف آف پائی

لائف آف پائی فلم کے لئے کام کرتے وقت پرانے تجربات کو دوبارہ جینے کا موقع ملا۔ میں نے کچھ وقت فلم کی سکرپٹ کو پڑھا اور پھر میری فلم کے ہدایتکار آنگ لی کے ساتھ بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میں سمندر کو ایک کریکٹر کے طور پر رکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے ان کا آئیڈیا انتہائی نیا لگا۔ میرے پاس سمندر کے تنوع کو سامنے لانے کا بہت اچھا موقع تھا۔

ان کے تجربات کی وجہ سے مجھے سمندر کے جادو اور راز کو فلمانے میں تعاون دینے کا موقع ملا۔

زندگی میں اس طرح کی چھوٹے چھوٹے واقعات کا بھی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے کیونکہ ان سے زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے میں مدد ملتی ہے۔