تنخواہوں میں اضافے کے لیے ٹوئٹر پر مہم

سعودی عرب میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے ٹوئٹر پر چلائی گئی ایک مہم شہریوں میں کافی مقبولیت اختیار کر گئی ہے۔

اس مہم میں شامل زیادہ تر لوگ وہ ہیں جنہیں روز مرہ زندگیوں میں مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس مہم کے حامی گزشتہ دو ماہ سے ٹوئٹر پر بہت متحرک ہیں اور وہ اس مہم کے لیے عربی زبان میں’ہماری تنخواہ ہماری ضروریات کو پورا نہیں کرتی‘ کا ہیش ٹیگ کا استعمال کر رہے ہیں۔

جولائی میں شروع ہونے والی اس مہم کے پہلے دو ہفتوں میں اس ہیش ٹیگ کے ساتھ سترہ کروڑ ٹویٹس کی گئی تھیں جس کے بعد یہ ہیش ٹیگ کسی بھی زبان میں استعمال ہونے والے ہیش ٹیگز میں سولہویں نمبر پر آ گیا ہے۔

تاہم اس مہم کو تنقید کا بھی سامنا کنا پڑ رہا ہے۔ بعض سعودی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے لوگوں کوگمراہ کیا جا رہا ہے جبکہ کچھ افراد اس بات پرناخوش ہیں کہ ملک کے اندرونی مسائل کو اس سطح پر دوسرے لوگوں کے سامنے کیوں لایا جا رہا ہے۔

مستحق کون؟

مہم کا مقصد ملک کے بادشاہ عبداللہ کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کریں۔

مہم میں سعودی عرب میں غربت اور ملک کی تیل کی دولت صرف چند افراد کے ہاتھوں میں ہونے جیسے مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

سنہ انیس سو ستر میں سعودی عرب کی آبادی ستر لاکھ تھی جو دو ہزار بارہ میں بڑھ کر تین کروڑ ہوگئی تھی۔

مہم میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ حکومت صحیح جگہ پر پیسے خرچ نہیں کر رہی اور اس کی وضاحت ایک کارٹون کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ٹوئٹر پر موجود اس کارٹون میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک کھجور کے درخت سے گرنے والے پھل سے باقی تو فائدھ اٹھا رہے ہیں لیکن ملک کے عوام کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

چند سعودی شہریوں کو حکومت کی جانب سے مصر کے لیے امداد کے اعلان پر بھی غصہ ہے۔

ٹوئٹر پر موجود ایک دوسری تصویر میں ایک شادی شدہ جوڑے کو اپنے بچے کے ساتھ گندگی کے بیچ ایک گاڑی میں رہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ ’سعودی عرب مصر کو پانچ ارب ڈالر کی امداد دیتا ہے۔ کیا یہ لوگ اس کے زیادہ مستحق نہیں؟‘۔

’شاہ خرچیاں‘

کئی افراد نے اس مہم کے ذریعے سعودی شاہی خاندان کی شاہ خرچیوں پر بھی اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

ٹوئٹر پر لوگوں نے ان اطلاعات پر اپنی برہمی کا اظہار کیا جن کے مطابق ایک سعودی شہزادے نے پانچ لاکھ ڈالر کی امداد کے عوض امریکی اداکارہ کرسٹن سٹیورٹ کے ساتھ پندرہ منٹ کی ملاقات کا وقت مانگا تھا۔

مہم میں سستے مکانات کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی شکایت کی جا رہی ہے۔

جولائی میں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں بھی اس مسئلے کا نوٹس لیا گیا تھا۔ رپورٹ میں نوجوان شہریوں کے لیے نوکریوں کی کمی کے مسئلے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں تئیس ستمبر کو قومی دن منایا جاتا ہے اور ٹوئٹر پر بعض صارفین اس دن کو اپنے خدشات کو اجاگر کرنے کا اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ’کیسا قومی دن، جب میری قوم قرضے میں ڈوبی ہوئی ہے اور ایسے میں تمام شہزادے سوئٹزرلینڈ میں ہیں اور ہم بل ادا کر رہے ہیں۔ وہ لوگ قصوروار ہیں جو انہیں ہمارے پیسے اور پیٹرول کے ساتھ کھیلنے دیتے ہیں۔‘

سعودی عرب میں ’امن اور استحکام‘

ایک ایسے معاشرے میں جہاں خرابیوں اور غلطیوں کو چھپایا جاتا ہے اس قسم کی مہم پر کافی لوگ ناراض ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس قسم کی مہم سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔

ملک کی کابینہ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمان السدہان نے ٹوئٹر پر جاری اس مہم کی مذمت کی اور کہا ’یہ ایک بغاوت ہے جس میں وہ لوگ شامل ہیں جو اس بات پر ناخوش ہیں کہ ایسے میں جب دوسرے ممالک میں حالات خراب ہیں تو سعودی عرب میں امن اور استحکام کیوں ہے۔‘

تجزیہ کار عبدالرحمان الفرحان نے سعودی اخبار البلاد میں لکھا ہے کہ ٹوئٹر صارفین کی تنخواہوں میں اضافے کی مانگ میں ایسے کئی بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے جن کی وجہ سے شہریوں کو روز مرہ زندگیوں میں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر سب کی ہیلتھ انشورنس ہو اور صحیح طریقے سے گھروں کے لیے الاؤنس مختص کیے جائیں تو لوگ مطمئن ہوں گے اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔

اسی بارے میں