’بشارالاسد جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں‘

Image caption روس اور امریکہ کے وزراء خارجہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی آئندہ ہفتے متوقع ایک رپورٹ میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ’مکمل تصدیق‘ ہو جائے گی۔

بان کی مون نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ دمشق کے مضافاتی علاقے میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کرنے کا الزام کس پر عائد کیا جائے گا کیونکہ یہ رپورٹ کے دائرۂ کار میں نہیں ہے۔

لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا کہ شام کے صدر ’جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں‘۔

شام پر بات چیت تعمیری رہی: جان کیری

’شام پر کارروائی دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دیے گی‘

’سب فریق جنگی جرائم کے مرتکب ہیں‘

انھوں نے کہا ’اس لیے مجھے یقین ہے کہ جب یہ سارا معاملہ ختم ہو گا تو احتساب کا عمل شروع ہو جائے گا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار نک برائنٹ کا کہنا ہے کہ ایسا لگا کہ اقوامِ متحدہ کے خواتین کے لیے بین الاقوامی فورم پر یہ باتیں کرتے ہوئے بان کی مون کو یہ احساس نہیں ہوا کہ ان کی گفتگو نشر کی جا رہی ہے لیکن اسے اقوامِ متحدہ کی ٹی وی پر دکھایا گیا۔

کیمیائی ہتھیاروں کے سربراہ انسپکٹر آکے سیلسٹروم نے اب اس کی تصدیق کر دی ہے کہ ان کی رپورٹ مکمل ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’رپورٹ مکمل ہے اب یہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر منحصر ہے کہ وہ اسے کب پیش کرتے ہیں۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ماری ہارف نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے لیے کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا ہوگا لیکن یہ اس واقعے کے متعلق ’ہمارے موقف کی تصدیق کرے گا‘۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے لیے کسی پر بر ملا الزام عائد نہیں ہو گا لیکن اس کی حقائق پر مبنی معلومات سے جس میں مٹی، خون اور پیشاپ کے نمونے، عینی شاہدین اور ڈاکٹروں سے انٹرویوز شامل ہیں اندازہ لگایا جا سکے گا کہ اس واقعے کے ذمہ کون ہیں۔

ادھر روس اور امریکہ کے وزراء خارجہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے کنٹرول میں دینے پر ان کی بات چیت شام میں جاری پرتشدد تنازعے کے حل کی کوششوں کا آغاز ہے۔

جنیوا میں جمعے کو دونوں رہنماؤں کی بات چیت کے دوسرے دن ملاقات میں شام کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ خصوصی ایلچی الاخضر براہیمی نے بھی شرکت کی۔

بات چیت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ بات چیت تعمیری رہی ہے اور وہ ایسے مشترکہ نکات تلاش کر رہے ہیں جن پر اتفاقِ رائے ممکن ہو۔

اس موقع پر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر رواں ماہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر بھی بات چیت ہوگی جس میں شام کے معاملے پر امن کانفرنس کی تیاریوں پر بات ہوگی۔

روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان جمعرات کو شام میں جاری کشیدگی پر جامع مذاکرات ہوئے تھے اور دونوں رہنما کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈمز کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی امور پر اب بھی وسیع اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ادھر شامی باغیوں نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیار عالمی کنٹرول میں دینے کے اعلان کے باوجود ہلاکتیں نہیں رکیں گی۔

فری سیریئن آرمی کے ترجمان لوئی مقداد نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کی سرکاری فوج کے پاس روایتی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے اور شامی حکومت کا یہ اقدام روس کی مدد سے ’مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے‘۔

جنیوا میں روسی ہم منصب سے ملاقات سے قبل جان کیری نے کہا تھا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ صدر بشارالاسد کیمیائی ہتھیاروں کو ترک کرنے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے یا نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں طاقت کا استعمال لازمی ہوگا۔

جمعرات کو جنیوا میں ہونے والی ملاقات سے پہلے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ روسی منصوبے پر عمل درآمد سے شام مغربی ممالک کی فوجی کارروائی سے بچ سکے گا۔

سرگے لاوروف نے کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ حل ہونے کے بعد شام کے خلاف امریکہ کی طرف سے فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کی دھمکی کی وجہ سے شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی برادری کے حوالے کرنے پر تیار ہوا ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتکاری سے شام کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکے گا۔

Image caption اقوامِ متحدہ کے تفیش کاروں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے اپنی رپورٹ تیار کر لی ہے

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز روبنز کا کہنا تھا کہ لاوروف اور جان کیری کے درمیان بات چیت بہت اہمیت کی حامل ہے جس کا مقصد گذشتہ ڈھائی سال سے جاری شامی کشیدگی کے حل میں تعطل کو ختم کرنا اور صدر بشارالاسد سے کیمیائی ہتھیار لے لینا ہے۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں 1419 افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔

برطانیہ ، فرانس اور امریکہ اقوام متحدہ میں ایک ایسی قرارداد بھی لانا چاہتے ہیں جس کی پابندی کرنا شام پر لازمی ہو جبکہ روس اس کا مخالف ہے۔ فرانس اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد تیار کرنے پر پہلے ہی سے کام کر رہا ہے جو شام کی ناکامی کی صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دیتی ہے۔

ادھر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں کوئی بھی ایسی قرارداد قابلِ قبول نہیں ہوگی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری شام پر ڈالی جائے۔

شام میں 2011 میں شروع ہونے والے کشیدگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں