امریکی خاتون کا 36 حروف پر مشتمل نام

Image caption ہوائی کی حکومت کے کمپیوٹرز کو سال کے آخر میں اپ گریڈ کیا جائے گے جس کے باعث جینس کا پورا نام ان کے ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈ پر آ سکے گا

امریکی ریاست ہوائی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو اس بات کی اجازت مل گئی ہے کہ وہ ڈرائیونگ لائسنس پر اپنا پورا نام لکھوا سکیں۔

لیکن اس میں اجازت ملنے والی کیا بات ہے؟

جینس نامی اس خاتون کا خاندانی نام چھتیس حروف پر مشتمل ہے اور کمپیوٹر نظام کی مجبوریوں کی وجہ سے اتنا طویل نام شناختی دستاویزات پر پورا نہیں آتا۔

ان خاتون کا پورا نام Janice "Lokelani" Keihanaikukauakahihuliheekahaunaele ہے۔

اس وقت جینس کے ڈرائیونگ لائسنس پر ان کا مختصر نام درج ہے کیونکہ موجودہ کمپیوٹر نظام کے تحت صرف پینتیس حروف تک کے نام درج ہو سکتے ہیں۔

تاہم اب ہوائی کی حکومت کے کمپیوٹرز کو سال کے آخر میں اپ گریڈ کیا جائے گا اور یوں جینس کا پورا نام ان کے ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈ پر آ سکے گا۔

مس جینس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پورے نام کے لیے مہم کا آغاز اس لیے کیا کہ ان کا نام پڑھ کر جس طرح پولیس والے ان سے برتاؤ کرتے تھے وہ افسوسناک تھا۔

’ایک پولیس والے نے مجھے روکا اور ڈرائیونگ لائسنس پر دیکھا کہ میرا پہلا نام نہیں ہے تو میں نے ان سے کہا کہ یہ میری غلطی نہیں کہ لائسنس اور ریاستی شناختی کارڈ پر میرا درست نام موجود نہیں۔ میں اس کی تصحیح کی کوششیں کر رہی ہوں۔‘

جینس کا کہنا ہے کہ اس پر پولیس والے نے جواب دیا ’آپ شادی سے قبل کے نام کو استعمال کرنا شروع کر سکتی ہیں۔‘

جینس نے کہا ’میں بائیس سال سے دیکھ رہی ہوں کہ ہوائی کی تہذیب کو روندا جا رہا ہے اور پولیس والے میرے نام کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے بے معنی نام ہو۔‘

مس Keihanaikukauakahihuliheekahaunaele نے اپنی شکایت گورنر کے دفتر میں کی جس کے بعد اعلان کیا گیا کہ نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ ان کا پورا نام لائسنس اور شناختی کارڈ پر آ سکے۔ گورنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ایسا اس سال کے آخر تک ہو جائے گا۔

گورنر کی ترجمان کیرولائن سلیٹر کا کہنا ہے کہ پوری ریاست کے کمپیوٹر نظام میں تبدیلی جا رہی ہے تاکہ لمبے نام بھی درج ہو سکیں۔

مس Keihanaikukauakahihuliheekahaunaele کو ان کا یہ انوکھا نام 1992 میں شادی کے بعد ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اس نام کے کئی معنی ہیں۔ ان میں سے ایک معنی ہے ’وہ جو ہمت سے کام لیتا ہے اور لوگوں کو ایسے وقت میں سمت دکھاتا ہے جب ہر طرف افراتفری اور کنفیوژن ہو‘۔