’کیمیائی ہتھیاروں پر معاہدہ شام کی فتح ہے‘

Image caption یہ شام کے لیے ایک جیت ہے جس کے لیے ہم روسی دوستوں کے شکرگزار ہیں: علی حیدر

شام کے ایک سینیئر وزیر نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے امریکہ اور روس کے سمجھوتے سے شام ’جنگ سے بچنے‘ کے قابل ہوا ہے۔

امریکہ اور روس شام کے کیمیائی ہتھیاوں کے معاملے پر ایک چھ نکاتی منصوبے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت سنہ 2014 کے وسط تک یہ ہتھیار شام سے منتقل یا پھر تلف کر دیے جائیں گے۔

شام پر بات چیت تعمیری رہی: جان کیری

’شام پر کارروائی دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دیے گی‘

’سب فریق جنگی جرائم کے مرتکب ہیں‘

اگر شام اس منصوبے پر عمل نہیں کرنا تو اسے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے ذریعے لاگو کروایا جائے گا اور اس سلسلے میں طاقت کا استعمال آخری حربہ ہوگا۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں 1419 افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔

شام نے حال ہی میں کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں عالمی معاہدے کا حصہ بننے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق وہ 14 اکتوبر سے اس معاہدے کا حصہ بن جائے گا۔

Image caption اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو امریکہ شام کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے: اوباما

شام کے وزیر برائے مفاہمت علی حیدر نے روسی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ’ایک طرف شام کو بحران سے نکلنے میں مدد دے گا تو دوسری جانب یہ شام کے خلاف جنگ کے خطرے کو ٹال دے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ شام کے لیے ایک جیت ہے جس کے لیے ہم روسی دوستوں کے شکرگزار ہیں۔‘

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے امریکہ اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو ’ایک اہم قدم‘ قرار دیا ہے تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں شام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ دمشق کو اس معاہدے پر پورا اترنا ہو گا۔

بیان میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس کا معاہدہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دیے جانے کے حوالے سے اہم اور ٹھوس قدم ہے۔

تاہم صدر براک اوباما نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتے رہیں گے کہ کیمیائی ہتھیاروں کو منتقل یا تلف کرنے کے کام کی تصدیق ہو سکے اور اگر بشار الاسد کی حکومت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کو خمیازہ بھگتنا ہو گا۔

صدر اوباما نے بیان میں کہا ہے ’اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو امریکہ شام کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے۔‘

یاد رہے کہ سنیچر کو امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ کی بات چیت کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے پاس موجود کیمیائی ہتھیاروں کی تعداد اور نوعیت کے بارے میں متفقہ طور پر اندازے لگا لیے گئے ہیں اور اب امریکہ اور روس انہیں جلد از جلد اور محفوظ طریقے سے ضائع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام ایک ہفتے میں اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر کی فہرست فراہم کرے اور نومبر تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی دے۔ انہوں نے بتایا کہ شام کے تمام کیمیائی ہتھیار 2014 کے وسط تک تلف کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

تاہم شام میں حکومت مخالف باغیوں کے تنظیم فری سیریئن آرمی نے اس سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ لڑائی جاری رکھیں گے۔

تنظیم کے جنرل سلیم ادریس کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں ایسا کچھ نہیں جس کا ہم سے واسطہ ہو اور یہ روس کی ایما پر شامی حکومت کی جانب سے وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

اسی بارے میں