’رپورٹ شامی حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہراتی ہے‘

Image caption شامی صدر بشار الاسد نے کیمیائی حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اس کا الزام باغیوں پر عائد کیا تھا

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی جانب سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق سے ان کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ اس کے پیچھے شامی حکومت ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ اور برطانیہ کے سفیروں کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تکنیکی تفصیلات سے ظاہر ہے کہ صرف شامی حکومت ہی اکیس اگست کو ہونے والے حملے کی ذمہ دار ہو سکتی ہے۔

’کیمیائی ہتھیاروں پر معاہدہ شام کی فتح ہے‘

روس امریکہ معاہدے سے شام کے لیے امید؟

ادھر روس کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کو بھی نظراندار نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت مخالف باغی اس واقعے کے ذمہ دار ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں گزشتہ ماہ راکٹ حملے میں سارن گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ میں کسی فریق پر اس گیس کے استعمال کا الزام عائد نہیں گیا ہے تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ’یہ جنگی جرم ہے۔‘

شام میں اگست کے تیسرے ہفتے میں ہونے والے اسی حملے کے بعد امریکہ نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ اس دھمکی کے نتیجے میں شام کے حامی روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے جن میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو 2014 کے وسط تک تلف کرنے کا سمجھوتہ طے پایا ہے۔

پیر کو رپورٹ کے بارے میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے سوال کیا گیا کہ ان کے خیال میں کیمیائی ہتھیار کس نے استعمال کیے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں ہم سب کی اپنی آراء ہو سکتی ہیں‘ لیکن ’یہ فیصلہ کرنا دوسروں کا کام ہے‘ کہ اس کے ذمہ داروں کو کیسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ’اس رپورٹ میں موجود تکینیکی تفصیلات بشمول حملے کے پیمانے، مختلف تجربہ گاہوں کے تجزیوں کے نتائج، گواہوں کے بیانات اور استعمال شدہ ہتھیاروں سے یہ بالکل واضح ہے کہ صرف شامی حکومت ہی وہ فریق ہے جو اس قسم کی کارروائی کر سکتی ہے۔‘

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے بھی اسی قسم کا بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کی تکنیکی تفصیلات واضح کرتی ہیں کہ صرف شامی حکومت ہی اتنے بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کر سکتی ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں 122 ملی میٹر کے جن راکٹوں کا ذکر ہے وہ ماضی میں شام کی حکومتی افواج کے ہی زیرِ استعمال رہے ہیں اور حملے میں استعمال ہونے والی گیس کا معیار عراق میں صدام دور میں استعمال ہونے والی گیس سے بہتر تھا۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ لورین فیبیئس نے کہا ہے کہ ’جب آپ نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو استعمال کی جانے والی زہریلی گیس کی مقدار، اس محلول کی نوعیت اور گرنے والے راکٹوں کی سمت سے کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ یہ حملہ کہاں سے کیا گیا۔‘

لورین فیبیئس منگل کو روس جا رہے ہیں تاکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ممکنہ طور پر پیش کی جانے والی اس قرارداد پر بات چیت کر سکیں جس کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی کنٹرول میں دیا جائے گا۔

روس نے اس الزام سے تاحال انکار کیا ہے کہ اس کے دوست اور اتحادی ملک شام کی موجودہ حکومت کیمیائی حملے کا ذمہ دار ہے۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے نمائندے ویٹالی چرکن نے رپورٹ کے اجراء کے بعد کہا تھا کہ ’ میرے خیال میں کچھ ساتھی ضرورت سے زیادہ جلدی نتائج اخذ کر رہے ہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ رپورٹ حتمی طور پر ثابت کرتی ہے کہ حکومتی افواج نے ہی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ الزام کہ درحقیقت وہ باغی تھے جنہوں نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ایسے ہی رد نہیں کیا جا سکتا۔‘ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ حکومتی حملہ تھا اور اس کے شکار افراد میں کوئی باغی جنگجو کیوں نہیں ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے دمشق میں 21 اگست کو ہونے والے کیمیائی حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اس کا الزام باغیوں پر عائد کیا تھا۔

پیر کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی معائنہ کاروں کی رپورٹ پر بریفنگ دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ 21 اگست کو دمشق میں بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ اس حملے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے بیشتر شہری تھے۔‘

بان کی مون نے یہ بھی بتایا کہ معائنہ کاروں نے خون کے جن نمونوں کا تجزیہ کیا ان میں سے 85 فیصد میں سارن گیس کے اثرات پائے گئے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ ان تجزیوں کی بنیاد پر مشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ’واضح اور قابلِ یقین ثبوت ہیں کہ اعصاب شکن گیس سارن سے بھرے راکٹ دمشق کے علاقے غوطا میں استعمال ہوئے۔‘

انہوں نے اس واقعے میں 1988 میں عراقی شہر حلعبجہ میں اس وقت کے حکمران صدام حسین کی جانب سے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد اس قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کا سب سے اہم واقعہ قرار دیا۔

اس رپورٹ کے اجراء کے بعد اب عالمی طاقتیں روس اور امریکہ کے اس سمجھوتے پر سلامتی کونسل کی ایک قرارداد تیار کریں گی جس کے مطابق شام ایک ہفتے میں اپنے تمام کیمیائی ہتھیاروں کی فہرست فراہم کرے گا اور یہ ہتھیار 2014 کے وسط تک تلف کر دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں