جماعت اسلامی رہنما کو سزا پر بنگلہ دیش میں ہڑتال

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے دو رہنماؤں کو موت کی سزا سنائے جانے کے خلاف دو رزوہ ہڑتال کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔

عبدالقادر ملا کو منگل کو 1971 میں جنگی جرائم کا مرتکب پایا گیا تھا۔

عبدالقادر ملا کی جماعت اسلامی نے سزا کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے ملک میں دو روزہ احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی تھی، البتہ جماعت اسلامی مخالف سیاسی جماعتوں نے عبدالقادر کی سزا کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

ملک میں بدھ کو تعلیمی ادارے بند رہے اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ملک کے مغربی شہر راج شاہی میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران پولیس نے ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

حکام کے مطابق جنوبی بنگلہ دیش میں ایک شخص مظاہرین کے پتھراؤ کے دوران اینٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔

1971 میں اُس وقت کے مغربی پاکستان کے خلاف خانہ جنگی میں جماعت اسلامی پر مغربی پاکستان کی افواج کا ساتھ دینے کا الزام ہے۔

اس خانہ جنگی کے دوران دس لاکھ کے قریب بنگلہ دیشی بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔

دسمبر 1971 میں بھارتی افواج نے بنگلہ دیشی عوام کا ساتھ دیتے ہوئے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا تھا جس میں پاکستان افواج کے 90 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنا پڑے تھے۔

16 دسمبر سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان ایک علیٰحدہ ملک بنگلہ دیش کے نام سے معرضِ وجود میں آیا۔

اس جنگ میں مکتی باہنی کے نام سے بنگلہ دیشی عوام کی مسلح تنظیم اور پاکستانی فوج پر شدید مظالم کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ افراد مارے گئے۔

دارالحکومت ڈھاکہ میں موجود بی بی سی بنگلہ کے نامہ نگار امبرسن ایتہی راجن کے مطابق شہر میں نیم فوجی دستوں بارڈر سکیورٹی گارڈز کو حلات قابو میں رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق ڈھاکہ کے مصروف تجارتی مراکز ہڑتال کے دوران سنسان پڑے تھے۔

عبدالقادر ملا کو اس سال فروری میں جنگ جرائم کے الزامات پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خصوصی عدالتی ٹرائبیونل جس نے عبدالقادر ملا کو سزا سنائی، وہ انصاف کے بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

جماعت مخالف سیاسی پارٹیوں نے اس سزا کو نرم قرار دیتے ہوئے ٹرائبیونل کے فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔

عبدالقادر ملا نے اپنی عمر قید کی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جب کہ حکومت نے بھی اس سزا کو مزید سخت کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے عمر قید کی سزا کو موت کی سزا میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کے خلاف منگل کو ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

چٹاگانگ میں مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

اسی بارے میں