’کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے لیے ایک سال چاہیے‘

Image caption صدر بشارالاسد نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے منصوبے پر عمل کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے ایک سال کا عرصہ درکار ہے۔

امریکی چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر ان الزامات کی تردید کی کہ دمشق کے قریب اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں سے کیے گئے حملے کے پیچھے شامی حکومت کا ہاتھ تھا۔

باغیوں نے کیمیائی حملہ کیا، شام کے پاس’شواہد‘

’رپورٹ شامی حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہراتی ہے‘

گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر روس اور امریکہ نے مل کر شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

مغربی ممالک کا موقف ہے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ میں جو قراردار پیش کی جائے اس میں فوجی کارروائی کا راستہ بھی رکھا جائے تاہم روس اس دھمکی کی مخالفت کرتا ہے۔

روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نہیں بلکہ باغی افواج نے کیا تھا۔

ادھر دوسری جانب شام میں باغی فوجیوں کے دو گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب القاعدہ سے منسلک ریاستِ اسلامی عراق نامی جہادی گروہ اور مغربی ممالک کی حمایت یافتہ فری سیریئن آرمی کے جنگجوؤں کے درمیان ترک سرحد کے قریب اعزاز نامی قصبے میں تصادم ہوا۔

جہادی گروہوں اور فری سیرئین آرمی کے درمیان یہ لڑائی اب تک کی سب سے بڑی جھڑپوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

اپنے عوام کی آواز سنیں

صدر بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔

’اس میں بہت پیسے درکار ہیں، چند اندازوں کے مطابق ایک ارب ڈالر تک درکار ہو سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اسی لیے آپ کو ماہرین سے پوچھنا ہوگا کہ ان کا ’جلد از جلد‘ سے کیا مراد ہے۔ اس کا ایک مخصوص شیڈول ہوتا ہے۔ اس میں ایک یا اس سے کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے ہتھیار امریکہ کے حوالے کرنے کو تیار ہیں تو ان کا کہنا تھا ’اس میں ایک ارب ڈالر درکار ہیں۔ یہ ماحول کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ اگر امریکہ یہ رقم دینا چاہتا ہے اور ان زہریلے مادوں کو امریکہ لے جانے کو راضی ہے تو وہ یہ کیوں نہیں کر لیتے۔‘

دمشق میں کیے گئے ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے اس انٹرویو میں بشار الاسد نے شام کے تنازع میں امریکی موقف پر بھی شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ روس کے برعکس امریکہ نے شام میں قیادت اور حکمرانی میں ملوث ہونے کی کوشش کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر باہمی احترام ہوتا تو مسائل نہ پیدا ہوتے۔ انہوں نے صدر اوباما سے بظاہر مخاطب ہو کر کہا کہ ’اپنے عوام کی آواز سنیں۔‘

صدر الاسد کے بیان سے قبل ایک سینیئر روسی وزیر کا کہنا تھا کہ شام دو ہزار چودہ کے وسط تک کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دے گا۔

شامی حکام سے بات چیت کے بعد روس کے نائب وزیرِ خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ شامی صدر ’غیر مسلح‘ کیے جانے کے پروگرام کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شامی حکام نے انہیں ’ثبوت‘ مہیا کیے ہیں جن کے مطابق گزشتہ ماہ کے کیمیائی حملے میں باغی گروپ ملوث تھے۔

روسی وزیر نے اقوامِ متحدہ پر شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں رپورٹ کے حوالے سے ’جانبداری‘ کا الزام بھی لگایا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں 2011 میں شروع ہونے والے تنازع میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

اسی بارے میں