’صدر روحانی امریکی منصوبوں سے ہوشیار رہیں‘

Image caption حسن روحانی اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ رہنما ہیں

ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک بیان میں ملک کے صدر حسن روحانی کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے حال ہی میں دی گئی تجاویز کے بارے میں محتاط رویہ اپنائیں۔

یہ بیان حسن روحانی کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانگی سے ان دن قبل آیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر روحانی کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی ’پیچیدہ اور مشکوک‘ منصوبوں کا شکار نہ ہوں۔

امریکہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر آئندہ ہفتے ایرانی صدر کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے تیار ہے۔ ایرانی صدر بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ سے رابطوں کے خواہشمند ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب حکومت کے کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کریں گے جو ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق ہو۔ ایران میں ریاست کی تمام طاقت آیت اللہ خامنہ ای کے پاس ہے اور اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب بھی انہی کے زیرِ اثر ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس قسم کا بیان سخت گیر موقف کے حامل ان حلقوں کی جانب سے صدر روحانی پر ڈالے جانے والے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے جو ان کے دورۂ امریکہ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب میں بھی سخت گیر موقف کے حامل حلقوں کا غلبہ ہے اور رواں ہفتے ہی اصلاح پسند صدر روحانی نے پاسدارانِ انقلاب کے مرکزی کمانڈروں کو سیاست سے دور رہنے کو کہا تھا۔

خیال رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی کی حلف برداری کے ساتھ ہی امریکہ کے ایران کے تئیں رویے میں کچھ تبدیلی دیکھی گئی تھی اور امریکہ نے کہا تھا کہ ایران سے ’شراکت داری‘ ممکن ہے اور اگر حسن روحانیکی حکومت سنجیدگی کے ساتھ اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہے اور اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہے تو اسے امریکہ کی شکل میں ایک رضامند ساتھی ملے گا۔

اس کے بعد رواں ماہ وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر براک اوباما اور صدر حسن روحانی کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ صدر اوباما نے اپنے ایرانی ہم منصب سے خط میں کہا ہے کہ امریکہ جوہری تنازع کو اس طرز سے حل کرنے کو تیار ہے جس کے تحت ایران کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ ثابت کرے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

تاہم ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ اس معاملے کے حل کے لیے ایران کو جلدی کرنی ہوگی کیونکہ معاملات کے سفارتی سطح پر حل کے امکانات کا راستہ ہمیشہ کے لیے موجود نہیں۔

خطوط کے تبادلے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایرانی صدر نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کا ملک کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور یہ کہ انہیں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

اسی بارے میں