عراق:جنازے میں دھماکے، 60 سے زیادہ ہلاک

Image caption رواں سال عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد پرتشدد واقعات میں مارے جا چکے ہیں

عراقی حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے صدر سٹی میں ایک جنازے کے دوران ہونے والے دو دھماکوں میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان دو دھماکوں میں سے ایک خودکش کار بم حملہ تھا اور یہ دھماکے اس ٹینٹ میں ہوئے جہاں سوگواران جمع تھے۔

سنیچر کی شام پیش آنے والے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ طبی عملے کے مطابق 120 افراد دھماکوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل سنیچر کو ہی بغداد کے شمال میں بیجی کے مقام پر ایک تھانے پر حملے میں 11 افراد مارے گئے تھے۔

عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال عراق میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں صرف اگست میں 800 افراد ہلاک ہوئے۔

سنیچر کو ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

تاہم عراق میں موجود القاعدہ حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے اور اس کا بنیادی ہدف شیعہ آبادی، سکیورٹی حکام اور حکومتی تنصیبات رہی ہیں۔

ایسے واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر شیعہ ملیشیا دوبارہ اکھٹے ہو رہے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا تحفظ کرنے کے لیے تیار ہیں-

شام میں جاری تنازع سے بھی عراق متاثر ہوا ہے جہاں تشدد میں فرقہ واریت کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں عراقی سکیورٹی حکام نے بغداد کے مضافاتی علاقوں سے مبینہ طور پر القاعدہ کے سینکڑوں دہشت گردوں کوگرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاریوں کی مہم کو شیعہ اکثریتی حکومت نے ’شہیدوں کا انتقام‘ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں