نیروبی: 59 ہلاک، متعدد یرغمال، آپریشن جاری

Image caption کینیا کے حکام کے مطابق اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے فوج اور پولیس کی طرف سے ’بڑی کارروائیاں‘ ہو رہی ہیں

افریقی ملک کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں سنیچر کی دوپہر ویسٹ گیٹ نامی شاپنگ سنٹر پر صومالی تنظیم الشباب کے حملے کے بعد یرغمالیوں کی نامعلوم تعداد اب بھی شاپنگ سنٹر کے اندر ہے۔

کینیا حکومت کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ شاپنگ سنٹر پر حملے میں کم از کم 59 افراد ہلاک اور 175 زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ کم از کم ایک ہزار افراد الشباب کے حملے کے بعد شاپنگ سنٹر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔تاہم انھوں نے کہا ہے کہ ابھی بھی الشباب کے 10 سے 15 مشتبہ حملہ آور شاپنگ سنٹر میں موجود ہیں۔

الشباب کیا ہے؟ سوال و جواب

نیروبی کا شاپنگ سنٹر بنا الشباب کا نشانہ: تصاویر

بہرحال حکومت کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ ابھی یہ نہیں معلوم کہ مزید کتنے شہری شاپنگ سنٹر میں یا تو یرغمال کے طور پر یا حملہ آوروں سے چھپ کر موجود ہیں۔

اس سے قبل کینیا کے حکام نے کہا ہے کہ اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے فوج اور پولیس کی طرف سے ’بڑی کارروائیاں‘ ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز آخر کار زندہ بچ جانے والے حملہ آوروں کو دباؤ میں لے آئی ہے۔

شاپنگ مال پر موجود ایک آرمی آفیسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کارروائی جاری ہے لیکن آپ ایسے کاموں میں جلدی نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ہماری ٹیم موجود ہے، ہم دیکھ رہے ہیں اور نگرانی کر رہے ہیں۔ ہم اس کو جلد از جلد ختم کر دیں گے۔‘

حکام کے مطابق عمارت کی اوپر والی منزل کو کنٹرول میں لایا گیا ہے۔

کینیا کے صدر نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان میں ان کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں جبکہ اس حملے میں 150 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

صومالی شدت پسند گروپ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور گروپ کے ایک سینیئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کینیائی افواج کی صومالیہ میں موجودگی کا ردعمل ہے۔

الشباب صومالیہ میں کینیا کی طرف سے اپنی فوجی بھیجنے کی مخالفت کرتی ہے۔ اس وقت صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں کینیا کے 4000 فوجی موجود ہیں جہاں وہ 2011 سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

کینیائی صدر اوہارو کینیاتا نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور کینیا ماضی میں بھی دہشتگردی کی کارروائیوں کا مقابلہ کر چکا ہے اور اب بھی کرے گا۔

الشباب نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کینیا کی حکومت ویسٹ گیٹ حملے کے خاتمے کے لیے بات چیت کرنا چاہتی ہے تاہم کینیائی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو ڈھونڈنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

غیرملکیوں کی ہلاکت

Image caption کینیائی صدر اوہارو کینیاتا نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے

کینیائی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم نیروبی کے مردہ خانے کے سپرٹنڈنٹ سیمی جیکب نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرنے والوں میں افریقی، ایشیائی اور کاکیزئن افراد شامل ہیں۔

ادھر فرانسیسی، بھارتی اور کینیڈین حکام نے اپنے دو، دو شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ فرانسیسی صدر کے محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر فرانسوا اولاند شدید الفاظ میں اس بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں اور ہلاک شدگان کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے اس واقعے میں کچھ امریکی شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے بھی کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانوی شہری ان واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔

ویسٹ گیٹ پر حملے کے عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے مسلمانوں کو چلے جانے کو کہا اور غیر مسلموں کو نشانہ بنایا۔

ایک عینی شاہد علیجاہ لماؤ کے مطابق ’وہ آئے اور کہا، اگر آپ مسلمان ہیں تو کھڑے ہو جائیں۔ ہم آپ کو بچانے آئے ہیں۔ اس کے بعد مسلمان ہاتھ اٹھا کر باہر چلے گئے اور پھر مسلح افراد نے دو لوگوں کو گولی مار دی۔‘

اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے صومالیہ کے شدت پسند گروپ الشباب نے کچھ دن پہلے اس شاپنگ سنٹر پر حملے کی دھمکی بھی دی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ کینیا میں 1998 میں امریکی سفارتخانے پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد اب تک کا بدترین حملہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نیروبی میں خریداری کے مراکز پر حملے چار برس سے دہشتگردوں کے ریڈار پر تھے اور اس سلسلے میں سفارتی اور غیر ملکی افراد کو تنبیہ بھی کی جاتی رہی ہے۔

اسی بارے میں