کیمیائی ہتھیار: انٹرنیٹ پر ذمہ وار ٹھہرانے کی جنگ

Image caption یوٹیوب اور لائیو لیک جیسی ویب سائٹوں پر شام میں کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے ویڈیو نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے

اقوام متحدہ کے ذریعے شام میں کیمیائی ہتھیار کے استعمال کی تصدیق کے بعد اب ویب سائٹوں کی جانب سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان ہتھیاروں کا استعمال کس نے کیا تھا۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا خیال ہے کہ کیمیائی ہتھیار کے معائینہ کاروں کی جانچ میں یہ بات ’مکمل تواتر‘ کے ساتھ آ رہی ہے کہ اس کے لیے شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت ذمہ دار ہے۔

تاہم یو ٹیوب اور لائیو لیک جیسی ویب سائٹوں پر اس ہفتے اپ لوڈ کی گئیں ویڈیوز میں شامی حکومت کے مخالف گروہوں کو 21 اگست کو دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں حملہ کرتے ہوئے دکھایا گيا ہے۔

واضح رہے کہ شام کے اتحادی ملکوں کی میڈیا بشمول روس کے سرکاری ٹی وی چینل رشیا ٹوڈے نے ان ویڈیوز کو خبر کے طور پر استعمال کیا ہے۔

اس خراب کوالٹی کے ویڈیو میں چند افراد کو ایک توپ گاڑی کےگرد دکھایا گیا ہے جس میں بظاہر ان لوگوں نےگیس ماسک پہن رکھے ہیں اور توپ کے بیرل پر سیاہ پرچم لگا ہوا ہے جس پر اسلامی علامت ’کلمہ‘ لکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے باغی گروہ لواء الاسلام کا نام ہے۔

ایک دوسرے ویڈیو میں ایک دھماکے کے بعد ایک شخص گروہ کا نام لیتا ہے اور کئی لوگ ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔

ان ویڈیوز کی آمد کے بعد لواء الاسلام نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ’پوری طرح سے فرضی‘ بتایا ہے اور اسد کی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ جس ہتھیار کو ویڈیو میں دکھایا گیا ہے وہ صرف شامی فوج کے پاس ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے محمد مادی کا کہنا ہے کہ ’یہ ویڈیو کئی وجوہ کی بنا پر مشتبہ ہے۔‘ ایک تو یہ کہ اسے مکمل تاریکی میں فلمایا گیا ہے حالانکہ جس رات یہ حملہ ہوا تھا وہ پورے چاند کی رات تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ ویڈیو میں جہادی سازوسامان جیسا کہ سیاہ پرچم اور نعروں کی مستقل آوازیں ہیں جو کہ حد سے زیادہ ہیں۔‘

اس ویڈیو کو ایک نئے یو ٹیوب اکاؤنٹ سے اس وقت ڈالا گیا ہے جب کیمیائی ہتھیاروں کے معائینہ کار رپورٹ داخل کرنے والے تھے۔ اس ویڈیو کے ساتھ جو متن دیا گیا ہے وہ ایک واضح مقصد کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب معائنہ کاروں کا خیال ہے کہ باغی گروپ کئی درجن ویڈیوز کئی مہینوں میں اپ لوڈ کرتے ہیں۔

بلاگر ایلیٹ ہگنز جو براؤن موسیز کے نام سے لکھتے ہیں وہ ان افراد میں شامل ہیں جو اس ویڈیو کے معروضی تجزیہ کر رہے ہیں جن میں ان ہتھیاروں کی جانچ بھی شامل ہے۔ ان بلاگرز کے پوسٹوں نے انٹرنٹ پر ایک بحث چھیڑ دی ہے کہ کہیں کیمیائی اسلحے کو لانچ کرنے والا ہتھیار باغیوں کے ہاتھ تونہیں لگ گیا ہے۔

حالانکہ وہ بذات خود اس ویڈیو کے بارے میں پر اعتماد نہیں ہیں لیکن رشیا ٹوڈے نے ان کے بلاگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’شام کے ایک معروف بلاگر نے ایک فوٹیج پوسٹ کیا ہے جس میں مبینہ طور پر باغیوں کو کیمیائی ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔‘

ہگنز نے اپنے بلاگ کے استعمال پر روسی ٹی وی چینل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ وہ ’اس کے ذریعے ان مشکوک ویڈیوز کو جواز دینا چاہتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے کہا ہے کہ معائینہ کاروں کو ملے شواہد جنگی جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ میڈیا نے جس طرح ان ویڈیوز پر شواہد کے طور پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے ان میں آنے والے دنوں میں اضافہ ہی ہوگا۔

اسی بارے میں