جرمنی: انگیلا میرکل کی جماعت فتح یاب

Image caption حکومت سازی کے لیے اتحاد کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے: مسز میرکل

جرمنی میں منعقدہ عام انتخابات کے سرکاری نتائج کے مطابق دو مرتبہ ملک کی چانسلر رہنے والی انگیلا میرکل کی جماعت کرسچین ڈیموکریٹس یونین (سی ڈی یو) انتخابات جیت گئی ہے لیکن معمولی فرق سے سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔

انگیلا میرکل نے ابتدائی نتائج میں تیسری بار اپنی فتح کے بعد اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور اپنی جماعت سے کہا ہے کہ وہ جیت کا جشن منائیں۔

نتائج کے مطابق کرسچین ڈیموکریٹس یونین کی (سی ڈی یو) نے انتخابات میں 42 فیصد ووٹ حاصل کیے اور ہو سکتا ہے کہ انہیں حکومت سازی کے لیے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے اتحاد کرنا پڑے جس نے 26 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

انگیلا میرکل کی اتحادی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی( ایف ڈی پی) نے صرف 4.8 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور جنگ کے بعد کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس کا کوئی نمائندہ پارلیمان میں موجود نہیں ہو گا۔

پارٹی کے سربراہ فلپ روزلر نے شکست کو افسردہ ترین لمحہ قرار دیا ہے۔ فری ڈیموکریٹک پارٹی کو گرین پارٹی نے 8.4 فیصد اور کیمونسٹ لیفٹ پارٹی نے 8.6 فیصد ووٹ لے کر شکست دی ہے۔

دوسری جانب جرمنی کو یورو کرنسی سے باہر نکلنے کی حامی جماعت نیو آلٹرنیٹو فیئر دیوتشے لینڈ کو 4.9 فیصد ووٹ ملے ہیں اور یہ بھی پارلیمان میں جانے سے قاصر رہی ہے۔

ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد اپنی فاتحانہ تقریر میں انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ وہ اس شاندار نتیجے کے لیے ووٹروں کی شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم آج رات جشن منا سکتے ہیں کیونکہ ہم نے ایک شاندار کام کر دکھایا ہے۔‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی حکومت سازی کے لیے اتحاد کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے۔

جرمن چانسلر کی سب سے بڑی حریف سوشل ڈیموکریٹس نے 25 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ لیے ہیں۔ انگیلا میرکل 2005 سے 2009 کے دوران ایسی اتحادی حکومت چلا چکی ہیں جس کا حصہ سوشل ڈیموکریٹس بھی تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ وفاقی انتخابات کے مقابلے اس بار جرمن ووٹروں کی تعداد زیادہ رہی۔ مقامی وقت کے مطابق دوبجے تک 41.4 فیصد ووٹروں نے اپنے حق کا استعمال کیا تھا جب کہ سنہ 2009 کے انتخابات میں اسی وقت تک یہ شرح 36 فیصد تھی۔

اسی بارے میں