متنازع ایٹمی پروگرام: ایران اور چھ عالمی طاقتوں کا اجلاس

Image caption چھ ممالک کے اجلاس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ کے ساتھ ملاقات کی

امریکہ اور یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ اس ہفتے اقوام متحدہ میں چھ اہم عالمی طاقتوں سے ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظريف کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی شامل ہوں گے۔

پچھلے تیس سالوں میں اس سطح پر دونوں ممالک کی یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ جوہری مسئلے پر رکی ہوئی بات چیت کو غیر مشروط طور پر شروع کرنے کو تیار ہیں۔

ایک اور معاملے میں ایران نے کہا ہے کہ اس نے 80 قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جنہیں 2009 کے متنازع صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے ایک دن پہلے بھی ایران میں 11 قیدیوں کی سزا معاف کی گئی تھی۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ جواد ظريف سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ، چین، فرانس، روس، امریکہ اور ساتھ ہی جرمنی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

جواد ظريف ایران کے جوہری معاملات پر اہم مذاکرات کار بھی ہیں۔

یورپی یونین کے حکام کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کے رکن ظريف سے اکتوبر میں دوبارہ ملاقات کریں گے جس میں بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے امریکی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ کسی کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم دہائیوں پرانے اس مسئلے کو ایک ملاقات یا اجلاس میں سلجھا لیں گے۔

ایرانی صدر روحانی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان کا ملک کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔

اسی بارے میں