زمین یوکرائن کی مگر فصلیں چینی

چین یوکرائن کی لاکھوں ہیکٹر زمین پر مستقبل قریب میں کاشت کاری شروع کرے گا جو چین سے باہر حکومت کا سب سے بڑا زرعی منصوبہ ہوگا۔

یوکرائن میں کاشت کاری کا معاہدہ چین کی جانب سے یوکرائن کی مقامی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی سمت میں بڑا قدم ہے۔

50 سال کے اس منصوبے کے تحت یوکرائن شروع میں چین کو کم سے کم ایک لاکھ ہیکٹر زمین دے گا جو ہانگ کانگ کے رقبے کے برابر ہے۔

یہ زمین یوکرائن کے مشرقی نپروپے تروسك میں بنیادی طور پر زراعت کے لیے دی جائے گی۔

یہاں سے ہونے والی پیداوار چین کی دو سرکاری کمپنیوں کو کم قیمت پر فروخت کی جائے گی۔ بعد میں اس منصوبے کو توسیع دے کر اسے 30 لاکھ ہیکٹر تک لے جایا جائے گا۔

اپریل 2009 میں چین کے پاس بیرون ملک 20 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ کاشت کاری کے لائق زمین تھی۔

اس معاہدے پر جون میں شنجياگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کمپنی اور یوکرائن کی كےایس جي ایگرو کے درمیان دستخط ہوئے تھے۔ كےایس جي ایگرو یوکرائن کی بڑی زرعی کمپنیوں میں سے ہے۔

شنجياگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کمپنی جسے بگٹان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک نیم فوجی کمپنی ہے، جسے 1950 کی دہائی میں شنجياگ میں قائم کیا گیا تھا۔

Image caption اپریل 2009 میں چین کے پاس بیرون ملک 20 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ کاشت کاری کے لائق زمین تھی

اس کا مقصد کاشت کاری کی زمین واپس لینا اور سوویت یونین کے خلاف دفاعی تیاریوں کو مضبوط کرنا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ سوویت یونین کے زمانے میں زیادہ تر اناج یوکرائن میں پیدا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں یوکرائن سوویت یونین کا حصہ تھا۔

اگرچہ کمپنی کے بیان میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ چین کتنے ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا لیکن یوکرائن کے اخبار کیو پوسٹ کی خبروں کے مطابق یہ سرمایہ کاری 6.2 ارب ڈالر سے زیادہ کی ہوگی اور اس سے چینی مزدوروں کو بیرون ملک روزگار ملے گا۔

چین نے جنوبی امریکہ میں بھی زراعت کے شعبے میں خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔ مثال کے طور پر اس نے ارجنٹائن میں سویابین اور مکئی اگانے کے لیے دو لاکھ 34 ہزار ہیکٹر زمین حاصل کی ہے۔

اسی طرح برازیل میں سویا بین اگانے کے لیے ساڑھے 37 کروڑ ڈالر اور ارجنٹائن میں سویا بین، مکئی اور کپاس اگانے کے لیے 2.1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

تاہم مسلسل دسواں سال ہے کہ چین کی مقامی اناج کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی اناج کی درآمد بھی بڑھی ہے۔

چین نے گذشتہ سال چار اعشاریہ ایک کروڑ ٹن اناج اور آٹا درآمد کیا تھا جو سال 2011 کے مقابلے 150 فیصد زیادہ ہے۔

اسی طرح یوکرائن گندم برآمد کرنے والے دنیا کے دس سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے۔