امریکی گھر ساتھ لے کر گھومتے ہیں

موبائل گھر
Image caption ’یہ بستیاں گنجان ہوتی ہیں لوگ صاف صفائی کا خیال نہیں رکھتے‘

امریکہ میں مردم شماری کے مطابق امریکہ میں تقریباً دو کروڑ لوگ موبائل گھروں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

امریکی ریاست جنوبی کیرولائنہ میں تقریباً بیس فیصد لوگ موبائل گھروں میں رہتے ہیں۔

امریکہ میں موبائل گھروں کو کمتر نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور کئی لوگوں کے خیال میں یہ غربت یا مفلسی کی علامت ہے لیکن یہ کہاں تک درست ہے۔

جب امریکہ کی اُن تمام ریاستوں کا موازنہ کیا گیا جن میں موبائل گھر کثرت سے موجود ہیں تو جنوبی کرولائنہ غریب ریاستوں میں شامل نہیں ہے۔ ڈیوک یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر چارلس بیکر جنہوں نے اس موضوع پر ریسرچ کی ہے ان کا کہنا ہے کہ موبائل گھروں کے لیے بنائے گئے ٹریلر پارکوں میں رہنے والے سبھی لوگ غریب نہیں ہوتے۔

پروفیسر چارلس بیکر کا کہنا ہے کہ موبائل گھر امریکہ کے ہاؤسنگ سیکٹر کا ایک اہم حصہ ہیں اور ملک کے بہت سے علاقوں میں ایسے گھروں میں رہنا بُرا نہیں سمجھا جاتا جیسا کہ جنوبی علاقوں میں تصور کیا جاتا ہے۔

کچھ علاقوں میں یہ مکان بہت ہی سلیقے سے بنائے گئے ہیں مثال کے طور پر مارٹن برگ کے باہر ایک موبائل پارک ہے جہاں دو سے تین بیڈروم کے موبائل گھر بنائے گئے ہیں جن میں بیڈرومز کے علاوہ دو باتھ روم باورچی خانے میں واشنگ مشین کے ساتھ بریک فاسٹ بار بھی بنا ہوا ہے۔

27 سالہ مائیکل بریڈن کا کہنا ہے ایک باقاعدہ گھر کی جگہ موبائل گھر لینے کا ایک مقصد آزادی بھی ہے۔مائیکل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے تو مکان خرید بھی سکتے تھے لیکن اگر ہم پکا مکان لیتے تو دوسرے علاقے میں شفٹ ہونے کے لیے اسے ساتھ لیکر نہیں جا سکتے تھے لیکن موبائل مکان ہم اپنے ساتھ لیکر جا سکتے ہیں۔

Image caption 1930 کے عشرے میں کساد بازاری کے دوران لوگوں نے ٹریلروں میں رہنا شروع کر دیا جو دراصل گھومنے پھرنے تا چھٹیاں منانے کے لیے بنائے گئے تھے

ٹریلر پارکوں کے بارے میں کتاب لکھنے والے مصنف اینڈریو ہرلی کا کہنا ہے کہ 1930 کے عشرے میں کساد بازاری کے دوران لوگوں نے ٹریلروں میں رہنا شروع کر دیا جو دراصل گھومنے پھرنے یا چھٹیاں منانے کے لیے بنائے گئے تھے لیکن ضرورت پڑنے پر لوگوں نے انہیں اپنا گھر بنا لیا۔

لوگوں نے یہ ٹریلر شہروں کے مضافات میں کھڑے کرنے شروع کر دیے جس کے بعد انہیں غریب اور مزدوروں کے گھروں کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

اینڈریو ہرلی کا کہنا ہے کہ موبائل گھر رکھنے والوں کے ساتھ ادارے کی سطح پر امتیازی سلوک برتا جانے لگا اور موبائل گھر رکھنے والوں کو گھر کے لیے قرضے دینے سے انکار کیا گیا اور شہری قوانین کے تحت انہیں شہروں اور قصبوں سے مزید دور کر دیا گیا۔

سنہ ساٹھ اور ستر کی دہائی تک موبائل گھروں کا چلن عام نہیں ہوا اور جو لوگ خرچ برداشت کر سکتے تھے وہ ٹریلر چھوڑ کر مستقل گھروں میں منتقل ہوگئے۔

حالیہ کساد بازاری کے بعد نئے گھروں کی فروخت میں کمی آئی۔

مالیبو میں ’پیراڈائز کوو‘ ایک ٹریلر پارک ہے اور جہاں پامیلا اینڈرسن اور میتھیو میک کناگ جیسے فلمی ستارے رہتے ہیں۔ ماربل کے فرش والے یہ موبائل گھر پچیس لاکھ ڈالر کی مالیت تک کے ہیں۔

Image caption موبائل گھروں کے کے ساتھ یہ خیال وابستہ ہے کہ اگر آپ کو علاقہ پسند نہ ہو تو آپ کبھی بھی اپنا گھر اپنے ساتھ لیکر جا سکتے ہیں۔

کچھ امریکی ایسے بھی ہیں جو آزادی سے جینے اور گھومنے پھرنے پریقین رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ موبائل گھر ساتھ لیکر جانا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا لیکن اس کے ساتھ یہی خیال وابستہ ہے کہ اگر آپ کو علاقہ پسند نہ ہو تو آپ کبھی بھی اپنا گھر اپنے ساتھ لیکر جا سکتے ہیں۔

’ان نون ورلڈ آف موبائل ہومز‘ کے مصنف جان فریزر ہارٹ کا کہنا ہے کہ حالانکہ یہ گھر بہت کشادہ ہوتے ہیں لیکن ان کے بارے منفی نظریات موجود ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شراب، عیاشی اور جرائم کے اڈے ہوتے ہیں اور کئی فلموں اور ناولوں میں اس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

ایسے ہی ایک موبائل گھر میں منتقل ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ یہ بہت حد تک درست بھی ہے کیونکہ یہ بہت گنجان ہوتے ہیں لوگ صاف صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور یہاں زیادہ تر مزدور طبقے کے لوگ رہتے ہیں۔

اسی بارے میں