’ایٹمی پروگرام پر نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘

Image caption ’ایٹمی ہتھیار یا وسیع پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کی ایران کے سکیورٹی اور دفاعی ڈاکٹرین میں کوئی جگہ نہیں ہے‘

ایران کے صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام پر ’نتیجہ خیز‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایٹمی پروگرام کے باعث ایران پر عائد کی گئی پابندیاں غلط ہیں۔

انہوں نے شام کے بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی مانیٹرنگ کے تحت لانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’ایران سے خطرہ تخیلاتی ہے اور ایران دنیا کے لیے یا کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ایٹمی ہتھیار یا وسیع پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کی ایران کے سکیورٹی اور دفاعی ڈاکٹرین میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

ایرانی صدر نے کہا اس لیے ایران فوری طور پر نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ اعتماد سازی کی جانب بڑھ سکیں اور مشترکہ بے اعتمادی کو ختم کیا جا سکے۔

ایرانی صدر نے خطاب میں ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں پر تنقید کی اور کہا ’صاف بات یہ ہے کہ یہ پابندیاں غلط ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کے باعث سیاسی امرا کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا بلکہ عام آدمی ان سے متاثر ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بارے امریکی پالیسی بیان کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ جہاں بھی سفارت کاری ناکام ہو گی امریکہ براہ راست فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری معاملات کا پرامن حل چاہتے ہیں لیکن وہ کسی صورت بھی ایران کو جوہری اسلحہ حاصل نہیں کرنے دیں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ اس ہفتے اقوام متحدہ میں چھ اہم عالمی طاقتوں سے ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کریں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظريف کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی شامل ہوں گے۔

پچھلے تیس سالوں میں اس سطح پر دونوں ممالک کی یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

اسی بارے میں