پیٹروف: جس نے دنیا کو ایٹمی حادثے سے بچایا

Image caption اعلیٰ افسران کو اس بات سے مطلع نہ کرنا احکامات کی خلاف ورزی اور کام میں کوتاہی تھی

30 سال قبل 26 ستمبر 1983 کو ایک شخص نے دنیا کو ممکنہ ایٹمی حادثے سے بچایا۔

اس روز علی الصبح سوویت یونین کے قبل از وقت وارننگ نظام نے امریکہ کی جانب سے میزائل حملے کی نشاندہی کی۔ کمپیوٹر کے مطابق امریکہ کی جانب سے روس کی جانب کئی میزائل فائر کیے گئے تھے۔ سوویت یونین کے پروٹوکول کے مطابق اس حملے کے جواب میں ایٹمی میزائل داغنے کا حکم تھا۔

لیکن ڈیوٹی آفیسر سٹینسی لاو پیٹروف نے فیصلہ کیا کہ اس بارے میں اعلیٰ حکام کو مطلع نہ کیا جائے اور اس وارننگ کو غلط اطلاع کے طور پر رد کردیا جائے۔ پیٹروف کی ڈیوٹی تھی کہ وہ دشمنوں کی جانب سے میزائل حملے کو رجسٹر کرے۔

امریکہ: جوہری بم پھٹنے سے بال بال بچا تھا

اعلیٰ افسران کو اس بات سے مطلع نہ کرنا احکامات کی خلاف ورزی اور کام میں کوتاہی تھی۔ ان کے لیے آسان بات یہ تھی کہ افسران کو اس بارے میں مطلع کر کے اپنے کندھوں سے ذمہ داری اتارتے۔

لیکن افسران کو مطلع نہ کر کے انہوں نے دنیا کو بچا لیا۔

30 سال بعد پیٹروف ن نے بی بی سی کی روسی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میرے پاس موجود تمام ڈیٹا کہہ رہا تھا کہ میزائلوں کا حملہ کیا گیا ہے۔ اگر میں یہ رپورٹ افسران کو بھجوا دیتا تو تو کوئی بھی اس رپورٹ کے خلاف نہ بولتا۔‘

پیٹروف لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر ریٹائر ہوئے اور ماسکو کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتے ہیں۔ ان کا شمار اس تربیت یافتہ ٹیم میں ہوتا تھا جو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع دیتی تھی۔ اس ٹیم کی تربیت بہت سخت اور احکامات بالکل واضح تھے۔

پیٹروف کی ڈیوٹی تھی کہ وہ کسی بھی میزائل حملے کے بارے میں سوویت فوجی اور سیاسی قیادت کو مطلع کریں۔ سنہ 1983 میں جو سیاسی ماحول تھا اس میں اس میزائل حملے کے ردِ عمل میں جوابی کارروائی یقینی تھی۔

پیٹروف نے بتایا کہ جب میزائل حملے کی نشاندہی ہوئی تو میں اپنی جگہ پر منجمد ہو گیا: ’سائرن بجنے شروع ہو گئے لیکن میں چند سیکنڈوں کے لیے جہاں بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا اور اپنے سامنے ریڈ سکرین کو تکتا رہا جس پر لکھا تھا ’لانچ۔‘

وارننگ نظام ان کو بتا رہا تھا کہ اس حملے کی نشاندہی ’بہت زیادہ‘ قابلِ اعتماد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ امریکہ نے میزائل حملہ کر دیا ہے۔

’ایک منٹ بعد دوبارہ سائرن بجنے شروع ہو گئے۔ ایک اور میزائل لانچ کردیا گیا ہے۔ پھر تیسرا، پھر چوتھا اور پھر پانچواں۔ کمپیوٹرز نے اپنا الرٹ ’لانچ‘ سے میزائل سٹرائیک‘ میں تبدیل کردیا۔‘

سستے روسی سگریٹ پیتے ہوئے پیٹروف نے قصہ سنایا جو شاید انہوں نے کئی بار یاد کیا ہو گا۔

پیٹروف نے بتایا: ’اس بارے میں کوئی احکامات نہیں تھے کہ اس قسم کے الرٹ پر کتنی دیر بعد میزائل سٹرائک کے بارے میں حکام کو مطلع کرنا ضروری تھا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم تھا ایسی صورتِ حال میں ہر سیکنڈ اہم تھا اور سوویت یونین کی فوجی اور سیاسی قیادت کو بغیر کسی التوا کے مطلع کرنا ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا ’میں نے صرف یہ کرنا تھا کہ میں فون اٹھاتا جو کہ کمانڈرز کے ساتھ ہاٹ لائن تھی۔ لیکن میں منجمد ہوگیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں گرم توے پر بیٹھا ہوں۔‘

اگرچہ الرٹ کی نوعیت میں کوئی ابہام نہیں تھا لیکن پیٹروف کو کچھ شکوک تھے۔

ان کی طرح آئی ٹی کے اور بھی ماہرین تھے جو امریکہ کی جانب سے میزائل حملے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ دیگر سیٹیلائٹ ریڈار آپریٹروں نے ان سے کہا کہ ان کے پاس اس قسم کا الرٹ نہیں آیا۔ لیکن وہ صرف سپورٹ سٹاف تھے اور احکامات بڑے صاف تھے کہ فیصلہ کمپیوٹر کی ریڈنگ پر ہی لینا ضروری تھا۔ اور یہ فیصلہ ڈیوٹی آفیسر ہی نے کرنا تھا جو پیٹروف تھے۔

لیکن جس بات پر ان کو شک پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ الرٹ بہت ہی واضح تھا۔

پیٹروف نے بتایا ’تقریباً 28 یا 29 سکیورٹی لیول تھے۔ ایک بار جب ہدف کا تعین ہو جائے تو اس کو ہر چیک پوائنٹ میں سے گزرنا تھا۔ میں اس بارے سے مطمئن نہیں تھا کہ ایسا ہوا ہے۔‘

پیٹروف نے سوویت فوجی ہیڈ کوارٹر میں ڈیوٹی آفیسر کو فون کیا اور خرابی کے بارے میں آگاہ کیا۔ اگر وہ اس بارے میں غلط ہوتے تو پہلا ایٹمی دھماکہ چند منٹ ہی میں ہوجاتا۔

’23 منٹ بعد بھی کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ اگر یہ الرٹ حقیقی ہوتا تو مجھے معلوم ہو جاتا۔ میں اتنا مطمئن ہوا۔‘

30 سال بعد پیٹروف کا کہنا ہے کہ اس وقت میرے صحیح ہونے یا غلط ہونے کے امکانات پچاس پچاس فیصد تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کو کبھی بھی یقین نہیں تھا کہ وہ صحیح ہیں۔

پیٹروف نے کہا کہ ٹیم میں وہ واحد فرد تھے جنہوں نے سویلین تعلیم حاصل کی ہوئی تھی: ’میرے سارے ساتھی پیشہ وارانہ فوجی تھے اور ان کو سکھایا گیا تھا کہ حکم دو اور حکم مانو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو قیادت تک یہ الرٹ ضرور پہنچایا جاتا۔

اس واقعے کے چند روز بعد پیٹروف کو سرکاری طور پر تنبیہ کی گئی۔ اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے کیا کیا بلکہ لاگ بُک میں غلطیوں کے لیے۔

انہوں نے دس سال تک اس بارے میں خاموشی اختیار رکھی: ’میرے خیال میں یہ سوویت فوج کے لیے ایک شرمندگی کی بات تھی کہ ہمارے نظام میں خرابی تھی۔‘

لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یہ واقعہ اخبارات میں آیا اور پیٹروف کو کئی بین الاقوامی ایوارڈ بھی ملے۔

لیکن وہ اپنے آپ کو ہیرو نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ میری ڈیوٹی تھی۔ لیکن وہ خوش قسمت تھے کہ اس رات میں ڈیوٹی پر تھا۔‘

اسی بارے میں