ایرانی رویے میں تبدیلی خوش آئند ہے: امریکہ

Image caption ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کی نیویارک میں اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات پچھلے تیس سالوں میں اس سطح پر دونوں ممالک کے درمیان پہلی ملاقات ہے

جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے نمائندوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات کیے ہیں۔

ان مذاکرات کے دوران امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایرانی ہم منصب محمد جاوید ظریف سے بھی ملاقات کی جو 2007 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

جمعرات کو چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد اس اجلاس کی صدارت کرنے والی یورپی یونین کی امورِ خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر اب 15 اکتوبر سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ٹھوس بات چیت شروع ہوگی۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے مذاکرات کے بعد ایران کے بدلتے ہوئے رویے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ جاوید ظریف نے مستقبل کی منظر کشی کی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے اور ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔

’ایک اجلاس اور رویے میں خوش آئند تبدیلی ان سوالات کے جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔‘

ادھر ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے اس ملاقات کو تعمیری قرار دیا اور زور دیا کہ دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں نے ایسے طریقے سے عالمی مسائل کے حل کی جانب پیش قدمی کی ہے جس میں ایرانی عوام کے حقوق کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس پہلے قدم سے مطمئن ہوں۔ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اپنے مثبت بیانات کو مثبت اقدامات میں کیسے بدلیں تاکہ آگے بڑھا جا سکے۔‘

ایران 2006 سے ان چھ ممالک سے اپنے جوہری پروگرام اور یورینیئم کی افزودگی کے معاملے پر بات چیت کر رہا ہے جو ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ مغربی طاقتوں کو شک ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے تاہم ایران اس الزام کو رد کرتا ہے۔

عالمی طاقتوں نے ایران سے یورینیئم کی افزدوگی اور 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم جمع کرنے کا عمل بند کرنے کو کہا ہے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایران افزودگی کا ایک زیرِ زمین کارخانہ بھی بند کرے۔

اس کے جواب میں وہ ایران پر عائد ان پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کرتی ہیں جن سے ایرانی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اب ایران کے نئے صدر حسن روحانی نے کہا ہے وہ تین سے چھ ماہ کے عرصے میں اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتہ چاہتے ہیں اور اس معاملے کے حل کو ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کا ’نقطۂ آغاز‘ سمجھتے ہیں۔

تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کو اُس وقت تک بڑی رعایتیں نہیں دی جائیں گی جب تک ایران عالمی برادری کو یقین دہانی کروانے کے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا۔

ایرانی صدر نے جمعرات کو جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی کوششوں کے تحت ان پر سخت کنٹرول کی بات کی۔ غیر جانب دار تنظیم کے ممالک کی جانب سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے چاہییں کیونکہ ان غلط ہتھیاروں کے لیے کوئی بھی ہاتھ محفوظ نہیں۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے صدر روحانی کے اس معتدل رویے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ جوہری مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے لیکن وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔

حسن روحانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے پر بات چیت کے سلسلے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار بریجٹ کینڈل کے مطابق ایرانی صدر نے اپنے پیش رو محمود احمدی نژاد کی خارجہ پالیسی اور رویے سے بالکل مختلف رخ اپنایا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں محمود احمدی نژاد کی دھواں دھار اور جارحانہ تقاریر کو مغربی ممالک کے سفارت کاروں کے واک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اسی بارے میں