لندن میں حلال کھانوں کا پہلا میلہ

Image caption میلے کے منتظمین اگلا میلہ نیویارک میں منعقد کرنا چاہتے ہیں

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں اپنی نوعیت کے پہلے حلال کھانوں کے میلے میں آپ کا واسطہ طرح طرح کے ذائقوں اور رنگوں کے پکوانوں سے پڑتا ہے، جن سے اٹھنے والی مہک انہیں چکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اس کے علاوہ میلے میں میٹھی چیزیں کھاتے ہوئے بچوں کی خوشی اور آئس کریم، اور لوگوں کی حلال خوراک کی انفرادیت سے واقف ہونے پر سب ہی خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

لندن کے ایکسل سینٹر میں دو روز تک جاری رہنے والے دنیا کے سب سے بڑے حلال خوراک کے میلے میں لوگوں کا جوش و خروش توقعات سے کہیں بڑے کر ہے۔

اس میلے میں چاکلیٹ کی مدد سے تیار کردہ میٹھا’چوکلیٹیئر‘ بھی دستیاب ہے اور اس میں شامل چاکلیٹ نہ صرف آپ کے منھ میں پگھل جائے گی بلکہ ساتھ دل کو بھی پگھلا دے گی۔

اس ڈش کے بانی انیش پوپٹ کا دعویٰ ہے کہ پانی کی مدد سے تیار کردہ چوکلیٹئر کے منفرد لذیذ ذائقے سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔

کیا یہاں آنے والے تمام افراد حلال خوراک کھاتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے، لیکن حلال خوراک کے شوقین افراد کی بڑی تعداد اس میلے میں طرح طرح کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

Image caption میلے میں کلاسز کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ منفرد حلال کھانے تیار کرنا سیکھ سکیں

اس میلے کا انعقاد لندن میں اس لیے کیا گیا کیونکہ برطانیہ میں مقیم مسلم آبادی کا ایک تہائی لندن میں رہائش پذیر ہے اور یہاں حلال خوراک کا کاروبار دو لاکھ پاؤنڈ تک ہے، جب کہ مجموعی طور پر برطانیہ میں سالانہ سات لاکھ پاؤنڈ مالیت کی حلال خوراک فروخت کی جاتی ہے۔

اس میلے کے ایونٹ ڈائریکٹر نعمان خواجہ سابق ڈینٹسٹ (دانتوں کے ڈاکٹر) ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ ڈینٹسٹری چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کریں لیکن اس میلے کا خیال ان کے ساتھی ڈاکٹر عمران کوثر کو آیا۔

’ہم چاہتے تھے کہ ایک ایسے فیسٹول کا انعقاد کریں جہاں ہر چیز حلال ہو، دنیا بھر میں اسلام موجود ہے اور اس لیے طرح طرح کے حلال کھانے بنائے جاتے ہیں اور ہم نے کوشش کی ہے کہ ان تمام کو اس میلے میں پیش کیا جائے‘۔

اس میلے میں براہ راست کھانا پکانے کے فن کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور اس میں شریک مشہور باورچی جین کرسٹوفر نویلی بھی شامل ہیں۔

’میری پرورش تمام مذاہب اور عقیدوں کے احترام کے ماحول میں ہوئی ہے، اس لیے اپنے دوستوں اور ہمسایوں کے لیے حلال کھانا تیار کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ سبزی کھانے والوں کے لیے سبزی تیار کرنا‘۔

اس کے علاوہ اس میلے میں ریستوران اور سڑکوں پر ملنے والے کھانوں کے سٹال موجود ہیں اور یہاں حلال کھانوں کے شوقین افراد کے لیے کلاسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ وہ کئی منفرد پکوان تیار کرنا کی ترکیبیں سیکھ سکیں۔

Image caption انیش پوپٹ کے مطابق ان کے’چوکلیٹئر‘ کے منفرد ذائقے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا

2012 میں بہترین باورچی قرار پانے والی شیلینا پرمالو کے مطابق ’یہ ایک انتہائی منفرد میلہ ہے جس میں سب کو بہترین کھانوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور اس میں مذہب کی کوئی تفریق نہیں ہے‘۔

میلےکا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کو بتایا جا سکے کہ وہ کسی بھی اعلیٰ ریستوران سے حلال کھانا منگوا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شرکت کنندگان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اب برمنگھم پیلس، ڈاؤننگ سٹریٹ اور میئر ٹاؤن ہال میں مہمانوں کو حلال کھانا پیش کیا جاتا ہے لیکن منتظین کے مطابق ان کا اصل ہدف متوسط طبقے کے مسلمان ہیں جن کے برطانیہ بھر میں ریستورانوں میں جانے سے تبدیلی آ رہی ہے۔

اس میلے میں امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور منتظمین کے مطابق وہ اسی طرح کا اگلا میلہ امریکی شہر نیویارک میں منعقد کرنا چاہتے ہیں۔

میلے میں شامل سنِ مؤن ریستوران کے چیف شیف عبدالیاسین کے مطابق ’اس میلے نے تمام مسلمانوں کے لیے دروازے کھول دیے ہیں تاکہ وہ یہاں آ کر اپنے مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے بہترین کھانوں سے لطف اندوز ہوں۔‘

اس میلے میں وائن بھی فروخت کی جا رہی تھی۔ اس پر وائن فروخت کرنے والے آصف چوہدری نے بتایا کہ وہ بغیر الکوحل والی وائن فروخت کر رہے ہیں۔

Image caption اس میلے نے تمام مسلمانوں کے لیے دروازے کھول دیے ہیں: عبدالیاسین

’ہمیں اعلیٰ قسم کی وائن چاہیے جسے مسلمان اپنے دوستوں کے ساتھ ملاقات کے دوران پی سکیں، اس وقت مارکیٹ میں الکوحل کے بغیر دستیاب وائن کی قلت ہے۔ اس طرح کی وائن شادی سمیت دیگر تقریبات میں استعمال ہو سکتی ہے‘۔

’اس کی یہ اشتہاری مہم چلائی جا سکتی ہے کہ ایسی وائن جس میں الکوحل نہیں ہوتی ہے اس میں 50 فیصد کم کیلریز ہوتی ہیں اور خوبصورتی ہے کہ ’اگلے دن سر درد بھی نہیں ہوتا‘۔

اس میلے کے ایک منتظم عمران کوثر میلے میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد سے خوش تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ میلے کی اصل کامیابی کا اندازہ اتوار کو اس کے آخری روز ہی ہو سکے گا۔

اسی بارے میں