صدر روحانی کے حق اور مخالفت میں مظاہرہ

Image caption تہران کے ائرپورٹ پر صدر روحانی کے حامی اور ان کے جوہری پروگرام پر بیان کی مخالفت کرنے والے جمع تھے

ایران کے صدر حسن روحانی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچے پر قدامت پسندوں نے ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگائے‘۔

ایرانی صدر نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام پر ’نتیجہ خیز‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اوباما کا روحانی کو فون، 34 سال میں پہلا رابطہ

ایرانی رویے میں تبدیلی خوش آئند ہے:امریکہ

اس دورے میں صدر روحانی نے فون پر اپنے امریکی ہم منصب سے گفتگو کی جو کہ گزشتہ چونتیس سالوں میں دونوں ممالک میں اعلیٰ ترین سطح پر پہلا رابطہ تھا۔

سنیچر کو صدر حسن روحانی کے وطن واپس پہچنے پر تہران کے ہوائی اڈے پر سینکڑوں افراد جمع تھے اور اس موقع پر حسن روحانی کے حمامی دورے کے حق میں جبکہ مخالفین جوتے اٹھائے ہوئے مظاہرہ کر رہے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق ائرپورٹ پر جمع دو سو سے تین افراد صدر روحانی کی کوششوں کے حق میں نعرے لگا رہے تھے جبکہ ساٹھ کے قریب افراد ان کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور امریکہ’مردہ باد‘ اسرائیل ’مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار کے درجنوں سخت گیر مظاہرین نے صدر روحانی کے قافلے پر انڈے اور جوتے پھینکے۔

ایران کی لیبر نیوز ایجنسی کے مطابق’صدر روحانی کے نیویارک کے دورے کے دوران ان کے بیانات اور موقف کے حق میں نوجوانوں اور طالب علموں کا ایک ہجوم مہرآباد ائرپورٹ کے باہر جمع تھا‘۔

نیوز ایجنسی کے مطابق صدر روحانی کے استقبال کے لیے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی اور کابینہ کے ارکان بھی موجود تھے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے صدر روحانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹیلی فون پر بات کرنے کا فیصلہ امریکہ کا تھا۔

’گزشتہ روز ہم ائرپورٹ جانے کے لیے تیار تھے کہ وائٹ ہاؤس سے فون آیا اور میری اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلی فون پر بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ائرپورٹ جاتے ہوئے راستے میں ہمارے سفیر کے موبائل فون پر رابط کیا گیا اور بات چیت میں جوہری معاملے پر توجہ مرکوز رہی ‘۔

اس سے پہلے جمعہ کو امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ انہوں نے فون پر اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کی ہے جو کہ گزشتہ چونتیس سالوں میں دونوں ممالک میں اعلیٰ ترین سطح پر پہلا رابطہ ہے۔

صدر اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک ’منفرد موقع‘ کی بات کی جو ایک ایسے وقت میں ہوا جب اس معاملے پر سفارت کاری عروج پر ہے۔

صدر روحانی نے ٹویٹ کی کہ میں اس وقت امریکی صدر اوباما سے بات کر رہا ہوں جس میں ’صدر روحانی نے اوباما سے کہا ’آپ کا دن بہترین گزرے‘۔ صدر اوباما نے جواب دیا ’شکریہ، خدا حافظ‘۔

اس سے قبل ایرانی صدر روحانی کہ چکے ہیں کہ وہ تین سے چھ ماہ کے عرصے میں اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتہ چاہتے ہیں۔

حسن روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اس معاملے پر بات چیت کے سلسلے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ایران نے جمعرات کو چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔

ایرانی صدر نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام پر ’نتیجہ خیز‘ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی سے اپنے جوہری پروگرام پر 2006 سے بات چیت کر رہا ہے جو ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

مغربی طاقتوں کو شک ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے تاہم ایران اس الزام کو رد کرتا ہے۔

اسی بارے میں