شامی کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کی قرارداد منظور

Image caption سلامتی کونسل سے قرارداد کی منظوری کے بعد شام کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ میں موجود تعطل کا خاتمہ ہوگیا

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور دس غیر مستقل اراکین نے روس اور امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ قرارداد پر جمعہ کی شب کو ووٹنگ کی اور تمام پندرہ اراکین نے اسے منظور کر لیا۔

اس قراداد کی منظوری سے شام کے تنازع پر اقوامِ متحدہ میں ڈھائی سال سے جاری عدم اتفاق کا خاتمہ ہوا ہے۔

اس ووٹ سے قبل عالمی کیمیائی ہتھیاروں کے نگران ادارے نے بھی شامی ہتھیاروں کے ذخیرے کو 2014 کے وسط تک تباہ کرنے کی حامی بھر لی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ’آج رات عالمی برادری نے آج فیصلہ سنایا ہے‘۔

انہوں نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس قرارداد پر عملدرآمد کو ’مخلصانہ طور پر بغیر تاخیر کے‘ ممکن بنائیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ نے اس ثابت کیا ہے کہ ’سفارتکاری اتنا طاقتور چیز ہے کہ وہ پرامن طریقے سے سب سے بُرے ہتھیاروں کو بھی ناکارہ بنا سکتی ہے۔‘

شام کے حامی ملک روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو نے بھی قرارداد کی منظوری کا خیرمقدام کیا اور کہا کہ ان کا ملک ’تمام اقدامات میں حصہ لینے کو تیار ہے۔‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی کوششوں کی کامیابی یہ ہوگی کہ تمام ذمہ داری شامی حکومت کے کاندھوں پر نہ ڈالی جائے اور شامی حزبِ اختلاف بھی تعاون کرے۔

قرارداد میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے مگر اس کے لیے کسی کو بھی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔

اس قرارداد میں دو قانونی طور پر پابند کرنے والے مطالبات شامل ہیں۔ اول یہ کہ شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے ترک کر دے اور دوئم یہ کہ کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔

قرارداد میں اقوامِ متحدہ کے باب سات کے تحت براہ راست عسکری مداخلت کا ذکر تو ہے لیکن اس قسم کی کارروائی کے لیے سلامتی کونسل کی ایک اور قرارداد کی منظوری کی ضرورت ہو گی۔

نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار نک برائنٹ کے مطابق یہ یقینی ہے کہ اگر ایسی کوئی دوسری قرارداد لائی گئی تو روس اسے ویٹو کر دے گا۔

ابتداء میں امریکہ اور روس کے درمیان اس قرارداد کے مسودے پر بہت سے اختلافات تھے۔ امریکہ جسے برطانیہ اور فرانس کی حمایت حاصل ہے قرارداد میں عسکری کارروائی کی دھمکی شامل کرنا چاہتا تھا لیکن روس اس کا مخالف تھا تاہم جمعرات کو دونوں ممالک اس کے مسودے پر متفق ہوگئے تھے۔

روس اور چین اس سے قبل تین بار مغربی ممالک کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف پیش کردہ قرارداد ویٹو کر چکے تھے۔

اسی بارے میں